مختصرسوانح حیات حضرت سیدبدیع الدین احمد قطب المداررضی اللہ تعالی عنہ.

مختصرسوانح حیات
حضرت سیدبدیع الدین احمد قطب المداررضی اللہ تعالی عنہ.

اسم گرامی:
سید بدیع الدین احمد ہے.کنیت ابوتراب ھے,بعض ممالک میں احمد زندان صوف کے نام سے مشہور ہیں,اہل تصوف اور اہل معرفت وحقیقت آپکوعبداللہ,قطب المدارفردالافرادکہتے ہیں”مدارعالم,مداردوجھاں”
مدارالعالمین,شمس الافلاک آپکے القابات مقدسہ ہیں برصغیر ہندوپاک میں زندہ شاہ مدار اور زندہ ولی کے نام سے زیادہ شہرت حاصل ہے”

ولادت باسعادت:
آپکی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت پیر کے دن یکم شوال المکرم سنہ دوسوبیالس ھجری(242)مطابق(856)عیسوی میں ملک شام کے شہرحلب میں محلہ,جنار”میں ہوئ صاحب عالم سے سن ولادت کی تاریخ نکلتی ہے~والدماجد کا نام نامی سید قاضی قدوۃ الدین علی حلبی ہے اوروالدہ موصوفہ سیدہ فاطمہ ثانیہ عرف بی بی ہاجرہ سےمشہورہیں:

آپ حسنی حسینی سید ہیں:
حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار رضی اللہ تعالی اپنا حسب ونسب ان الفاظمیں بیان فرماتے ہیں:اناحلبی بدیع الدین اسمی
      بامی وامی حسنی حسینی
     جدی مصطفے سلطان دارین
      محمداحمدومحمودکونین
(الکواب الدراریہ)
میں حلب کا رہنے والا ہوں میرانام بدیع الدین ہے,مسں کیطرف سے حسنی اورباپ کی طرف سے حسینی سید ہوں,میرے نانا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنکی تعریف دوجھاں میں کی جاتی ہے,,
حضرت قاضی حمید الدین ناگوری قدس سرہ القوی نے اپنےملفوظات میں آپکا شجرہ نسب اسطرح نقل فرمایا ہےکہ,آنحضرت اجلہ ازاولادامجادحضرت علی ابن طالب کرم اللہ وجہہ واسم پدرآں عالی قدرسیدعلی حلبی ابن سیدبہا ءالدین ابن سید ظھیر الدین ابن سیداحمد ابن سیدمحمد ابنسید اسماعیل ابن سید امام الائمہ جعفر صادق ابن سیدامام الاسلام سید باقرابن سیدامام الدارینزین العابدین ابن امام الشھداءامام حسین ابن امام الاولیاء:
یعنی حضرت قطب المدار حضرت سید مولا علی ابن ابیطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی اولاد میں سے بہت بڑی ہستی کے مالک ہیں

آپکے والد ماجد کا شجرہ نسب یہ ہے سید علی حلبی ابن سید بہاءالدین ابن سیدظھیرالدین ابن سید احمد ابن سید محمد ابن سید اسماعیل ابن.سیدامامالائمہ جعفر صادق ابن امام الاسلام سید باقر امام الدارین امام زین العابدین ابن امام الشھداءامام حسین ابن امام الاولیاء حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین
والدہ ماجدہ کی طرف سے آپکا نسب نامہ یہ ہے:
والدہ ماجدہ کا نام نامی فاطمہ ثانیہ عرف فاطمہ تبریزی دختر سید عبداللہ ابن سید زاہدابن سید ابومحمدابن سید ابو صالح ابن سید ابو یوسف ابن سید ابوالقاسم ابن سید عبداللہ محض ابن حضرت سید حسن مسثنی ابن امام العالمین حضرت سیدامام حسن امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین:

پیدائش کے وقت کرامات کا ظہور“”””آپ جب شکم مادر سے اس جھاں تیرہ تارمیں جلوہ بار ہوئے توروئے انور کی تابانی سے وہ مکان جگمگا اٹھا جسمیں آپ پیدا ہوئے-پیدا ہوتے ہی جبین نیاز کوخالق بے نیاز کی بارگاہ میں بہر سجدہ جھکا دیا-زبان حق نواسے یہ صدا بلند ہوئ:لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ.
حضرت ادریس حلبی جوایک صاحب کشف وکرامت بزرگ ہیں روایت فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ جب اس عالم گیتی لو اپنے قدوم میمنت لزوم سے مشرف فرمایا توروح پاک صاحب لولاک حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ.وسلم مع جملہ اصحاب کبار وائمہ اطھار خانہ علی حلبی میں جلوہ افروز ہوئ اور سید علی حلبی اور فاطمہ ثانیہ کوسعید بیٹے کی ولادت کی مبارکباد دی-غیب دے ہاتف نے ھذا ولی اللہ ھذا ولی اللہ کا مژدہ سنایا-شاھدان بارگاہ لایزال نے اپنے لوح دل پر ان مبشرات کو نقش کرلیا اور آپ سعید ازلی قرار دیئے گئے-(تعلیم وتربیت:)اللہ تعالی جسکو اپنا برگزیدہ بناتا ہے اور اپنی محبوبیت کے لیے انتخاب فرماتا ہے اسکی تعلیم وتربیت کے لئے بھی بے نظیر اور بھترین انتظام فرماتا ہے چناچہ جب آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر چار سال چار مہینہ اورچار دن کی ہوئ تو سلف صالحین کی سنت کے مطابق  والد گرامی نے بمنشائے رحمانی آپکو رسم بسم اللہ خوانی کے لیئے قطب ربانی شیخ وقت حضرت حزیفہ مرعشی شامی متوفی ..276.ھ کی خدمت میں پیش کیا-
استاذ محترم حق استاذی ادا کیا.ابتدائ تعلیم سے لیکر شریعت کے تمام علوم وفنون سے آراستہ وپیراستہ کیا جب آپکی عمر مبارک 14,سال کی ہوئ تو علوم عقلیہ ونقلیہ میں آپکو مہارت تامہ حاصل ہو چکی تھی-حافظ قران مجید ہونے کہ ساتھ ساتھ آپ تمامی آسمانی کتابوں خصوصا توریت.زبور انجیل,کے بھی حافظ وعالم تھے-(تزکرۃالکرام تاریخ خلفایے عرب واسلام..ص493/)

حضرت مخدوم اشرف جھاں گیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں’کہ بعض علوم نوادر مثلا ھیمیا,سیمیا’کیمیا’اور ریمیا’میں کامل دسترس رکھتے تھے-(لطائف اشرفی فارسی..ص 354/مطبوعہ نصرت المطابع دہلی)
     

        بیعت وخلافت:
ظاہری علوم سے فراغت کے بعد سعادت ازلیہ نے جزب دروں کو علم باطن کے حصول کہ لیے پابہ اشتییاق کردیا-جزبہ شوق نے زیارت حرمین شریفین کے لیے قدم بڑھایا-والدین کریمین سے اجازت طلب کی اور عازم مکہ اور مدینہ ہوگے-جب وطن سے باہر نکلے تو منشاے قدرت نے حریم دل سے صدادی کہ اے بدیع الدین!صحن بیت المقدس میں تمہاری مرادوں کا کلید لئے ہوے سر گروہ اولیاءبایزید بسطامی سراپا انتظار ہیں-آپ نے عزم کے رہوار کو بیت المقدس کی طرف موڑ دیا-259,,ھجری میں سلطان الاولیاء حضرت بایزید بسطامی
عرف طیفور شامی قدس سرہ السامی نے صحن بیت المقدس میں نسبت,صدیقیہ,طیفوریہ,وبصریہ,طیفوریہ سے سرفراز فرمایا اور اجازت وخلافت کا تاج سر پر رکھ کر حلہ باطن سے آراستہ وپیراستہ فرمایا-تھوڑی مدت تک مرشد بر حق کی معیت میں رہکر عرفان کی نعمتوں سے مستفیض ومستفید ہوتے رہے-ذکرواشغال اورادو وظائف اور ریاضات ومجاہدات کے ذریعے طریقت وحقیقت اور سلوک کی منزلوں اور معرفت کے اسرارورموز کے مقامات کو طے کرتے رہے مرشد برحق نے ذکر دوام اور حبس دم کی بھی تعلیم فرمائ،
;

حضرت بایزید بسطامیرضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال :
مرشد برحق نے مرید صادق کو عرفان حق اور مشاہدات حقیقت کا ایسا لطیف احساس اور سلیم جزبہ عطا فرمایا کہ آپ مشاہدہ ذات الہی اور درک صفات لا متنا ہیہ میں محو ومستغرق رہنے لگے -دوسو اکسٹھ ہجری کا سورج اپنے آٹھویں برج میں قدم رکھ چکا تھا چودہویں رات کا چاند اپنی پر شباب چاندنی سے جبین.کائنات کو منور ومجلی کر چکا تھا~داعی اجل نے حضرت سلطان العارفین بایزید بسطامی رضی اللہ تعالی عنہ کے در زیست پر دستک دی اور عالم وقرب واقرب میں حضوری کا دعوت نامہ پیش کردیا ~۱ شعبان المعظم 261 ہجری مطابق 875ء میں اس دار فانی سے عالم بالا کی طرف کوچ کر گے ~اناللہ وانا الیہ راجعون  ،’

حج بیت اللہ اور بارگاہ رسالت میں حاضری
مرشد سے جدائ کے بعد حضرت سید بدیع الدین احمد قطب المدار قدس سرہ اپنے حاصل مراد معبود حقیقی کی یاد سے حریم دل کو آباد کرنے لگے اور ایک مخصوص مقام پر ذکر جان جاناں میں محو ومستغرق ہو گئے آپنے ایسی گوشہ نشینی اختیار فرمائ کے دنیا کہ تمام چیزوں سے قلب پاک معری ہوگیا آپکا باطن خالی اور مصفی ہوگیا اور دنیا و آخرت سے مجرد ہوگے تجلیات ربانیہ.کی ہمراہی اور مشاہدات حقانیہ کی ہمنوائ میں ایک طویل عرصہ گزر گیا ایک رات وارفتگی شوق کے عالم میں  تھوڑی دیر کے لیے آنکھو کے دریچے بند ہوئے تھے کہ خواب میں مصطفے جان عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شبیہ مبارک جلوہ افروز ہوئ اور ایک شیریں آواز کانوں میں گونج اٹھی کے بدیع الدین تیری مرادوں کے حصول کا وقت قریب آگیا ہے گنبد خضری کے مکین تیرے نانا جان سنہری جالیوں سے تیری راہ دیکھ رہے ہیں آنکھیں کھلی تو دل کی دنیا میں مسرتوں کا طوفان برپا تھا وارفتگی شوق احساس و وجدان پہ چھاتی جلی گئ لیکن خرد  نےسر گوشی کی کے اے شوق مچل .اے پاوں ٹہر .اے دلکی تمنا خوب تڑپ آپنے رہوار شوق کو خانہ کعبہ کی طرف موڑ دیا موسم حج شروع ہو چکا تھا فریضہ حج وزیارت ادا کیا جب جمال الہی کی تجلیوں کے فروغ سے قلب دروں کندن ہوگیا تو دل بیتاب پر مدینہ منورہ کے احساسات چھاتے چلے گئے وہ سر زمین جسکے نام کو سنکر اھل ایمان کی   دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں وہ نورانی گلیاں جنمیں جاروب کشی کے لیے آنکھیں اور پلکے آرزو مند رہتی ہیں مسجد  نبوی کے وہ معطر منقش ستون جنہیں تصویروں میں دیکھکر ہی احساس وجدان سجدہ ریز ہوجاتے ہیں وہ کنبد خضری جس میں سے نور کی شعاعیں پھوٹ پھوٹ کر ساری کائنات کو روشن کرتی ہیں ~اب وہاں کی حضوری رسائ اور بایابی کی دھن میں پائے شوق وارفتہ وتند رو ہوجاتا رہا ہے جوں جوں منزل مقصود قریب آرہی ہے دل ودماغ اور روح کی تمام حسیات پر ادب واحترام کارنگ غالب ہوجاتا رہا ہے مقدر کی باریاب سے در حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ حضوری ہوتی ہے یہ اللہ کے حبیب صلی اللہ عیہ وآلہ وسلم کا آستانہ ہے یہاں خلقت کا ہجوم رہتا ہے یہاں تو شہنشاہ بھی گدا بن کے آتے ہیں یہ مقام تو فہم وادراک کی منزل سے بھی بالاتر ہے یہاں شرمساری کے جلووں میں امیدوں کا دیا جلتا ہے ~اضطراب کے پس پردہ چین وسکون کی ہوا چلتی ہے ~وہ ادھر دایئں ہاتھ کومنبر نبوت ہے اور وہ ریاض الجنت ~یہاں قدم قدم پر انوار رحمت سجدہ ریز ہیں نور ونکہت کی زمین پر چاند سورج اور ستارے دست بستہ نور کی خیرات کے لیے کھڑے ہیں دن رات کی کسی گھڑی میں ایک پل کے لیے بھی یہ جگہ خالی نہیں رہتی ہے ~دیوان اور مستانے یہاں دھونی رمائے رہتے ہیں بیک.وقت ستر ہزار فرشتے درودوسلام کے نغموں کے ساتھ یہاں چکر لگاتے رہتے ہیں اہل محبت کا یہاں ہر دم ہجوم رہتا ہے اللہ ھو کی باز گشت فضا کو گرمائے رہتی ہے یہاں کا ایک سجدہ ہزاروں سجدوں پر بھاری ہوتا ہے ‘حضرت قطب المدار رضی اللہ تعالی عنہ بارگاہ رسالت میں باریاب ہیں دلکی بیتابی کو قرار مل رہا ہے ~اضطراب شوق پر حصول تمنا کی امیدوں کا غلبہ ہورہا ہے احساسات پر سکون کی خنکی چھائی ہوئ ہے رات اپنے آخری مرحلہ میں داخل ہوچکی ہے فجر صادق اپنے اجالے کو کائنات پر بکھیر نے کی تیاری کررہا ہے کہ اسی اثنا میں رحمت ونور کے پیغامبر صلی اللہ تعالی وآلہ وسلم اپنی نورانیت کے ساتھ عالم مثال میں ظاہر ہوتے ہیں اور اپنے دلبند بدیع الدین قطب المدار کو اپنے دامن رحمت میں ڈھاپ لے تے ہیں قطرہ سمندر سے ملکر سمندر ہونے جارہا ہے ذرہ آفتا ب بن رہا ہے معا امیر کبیر حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم عیاں ہوتے ہیں بارگاہ رسالت سے حکم جاری ہوتا ہے اے علی اپنے نور نظر کو روحانیت کی تربیت دےکر اور رجل کامل بناکر میرے پاس لاؤ~

نسبت اویسیہ سے مشرف ہونا:
تاجدار اقلیم ولایت نے آپکو اپنے آغوش عاطفت میں  لیکر آپکے روحانیت کو صیقل فرمایا اور قلب کو متحمل بار ولایت عظمی بناکر بارگاہ رسالت میں پیش کردیا رسول کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم دوبارہ بشمول عواطف فرماکر خانہ نبوت میں اسلام حقیقی تلقین فرمائ اور اپنے جمال جھاں آرا سے آپکے قلب وروح کو مزین فرماکر شرف اویسیت سے ممتاز فرمایا اور ہندوستان جانے کی تاکید فرمائ~

“”اویسیت کا مطلب“”قارئین !اویسیت کیا ہے ?اور اسکی شان کتنی نرالی ہے ?اسکے فہم وادراک کے لیے شاہ سمنا حضرت مخدوم اشراف جہانگیر سمنانی قدس سرہ النورانی کی بارگاہ میں تھوڑی دیر کے لیے حاضری دیتے ہیں ,آپ فرماتے ہیں کے شیخ فرید الدین عطار قدس سرہ کا گفتہ کہ قومے ازاولیاء اللہ عزّوجل باشند کہ ایشاں کہ را مشائخ طریقت وکبرائے حقیقت اویسیان نامندکہ ایشاں را درظاہر ہربہ پیری احتیاج بنود زیراکہ ایشاں راحضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم در حجرہ عنایت خود پرورش می دہند بے واسطہ غیرے چنانکہ اویس دادہ ایں عظیم مقامی بود وروش عالی ترکرااینجارسانند وایں دولت بکہ رونماید بموجب آیتہ کریمہ ذالک فضل اللہ یوتیہن یشاء واللہ ذوالفضل العظیم (لطائف اشرفی ملفوظات حضرت مخدوم اشرف سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ لطیفہ 14/واں )

شیخ فرید الدین عطار قدس سرہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کے ولیوں میں سے کچھ حضرات وہ ہیں جنہیں بزرگان دین مشائخ طریقت “اویسی””کہتے ہیں ان حضرات کو ظاہر میں کسی پیر کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے حجرہ عنایت میں بذات خود انکی تربیت وپرورش فرماتے ہیں اسمیں کسی غیر کا کوئ واسطہ نہیں ہوتا ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اویس قرنی رضی اللی تعالی عنہ کو تربیت دی تھی یہ مقام اویسیت نہایت اونچا روشن اور عظیم مقام ہے کس کی یہاں تک رسائ ہوتی ہے اور یہ دولت کیسے میسر ہوتی ہے بموجب آیتہ کریمہ اللہ تعالی کا مخصوص فضل ہے وہ جسے چاہتاہے عطافرمادیتا ہے اور اللہ تعالی عظیم فضل والا ہے مزید فرماتے ہیں حضرت شیخ بدیع الدین المقلب شاہمدار ایشاں نیز اویسی بودہ اند وبسے مشرب عالی داشتند وبعضے علوم نوادر از ہیمیاوکیمیا وریمیا ازایشاں معائنہ شد کہ نادر ازیں طائفہ کسے راباشد (لطائف اشرفی فارسی ص 354/مطبوعہ نصرت المطابع دہلی )
ترجمہ.حضرت شیخ بدیع الدین ملقب بہ شاہمدار قدس سرہ بھی اویسی ہوے ہیں نہایت ہی بلند مرتبہ ومشرب والے ہیں بعض نوادر علوم جیسے ہیمیا سیمیا کیمیا ریمیا انسے مشاہدہ میں آئے ہیں جو اس گروہ اولیاء میں نادر ہی کسی کو حاصل ہوتا ہے.

ولی عہد خانقاہ مداریہ سید ظفر مجیب مداری مکنپوری

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s