کیا مٹی کھانا حرام ہے؟

سوال: کیا مٹی کھانا حرام ہے؟

جواب : ہمارے نزدیک مٹی کھانا مکروہ ہےـ

کیونکہ اس سے صحت انسانی کو شدید خطرہ ہےـ

ویکرہ أکل الطین لأن ذلک یضرہ فیصیر قاتلاً نفسہ (فتاویٰ قاضي خان علی ہامش الفتاوی الہندیة:۳/۴۰۳)
مکروہ یے مٹی کا کھانا اس میں ضرر کے سبب کہ وہ جان لیوا ہوجا تا ہےـ

وسئل بعض الفقهاء عن اکل الطين البخاری ونحوه قال لا باس بذلک مالم يضروکراهية اکله لا للحرمة بل لتهييج الداء – (فتاوی عالمگيری ‘ کتاب الکراهية ‘ الباب الحادی عشر فی الکراهة فی الاکل وما يتصل به۔)
بخاری اور انہی کیے مثل فقہاء نے فرمایااگر مٹی کھانا صحت کے لئے ضرر رساں ہوتو اس کا کھانا شرعا ممنوع ہے اور اگر مضر صحت نہ ہوتو اس کوکھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ـ

ہمارے فقہاء کے نزدیک مکروہ ہے اگر ضرر رساں ہے تو اسی لیئےخاک شفاء سے استفادہ جائز ہے کہ اس میں ضرر کا شائبہ تک نہیں صرف اور صرف شفاء ہی شفاء ہے ـ

البتہ

√ اہل حدیث مولوی شوکانی نے فتح القدیر میں آیت ﴿ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِیْ الأرْضِ جميعا﴾ سے استدلال کیا ہے کہ مٹی کھانا حرام ہے۔

√ علامہ عجلونی نے کشف الخفاءشریف میں اس کی حرمت کے متعلق چند احادیث نقل کی ہیں لیکن وہ سب ضعیف ہیں اور ضعیف حدیث فضائل میں تو معتبر ہیں پر مسائل حلت حرمت میں نہیں ـ

فقط
محمد شفیق حنفی

نوٹ: جو لوگ حرام کہتے ہیں انکے اپنے دلائل ہیں ان سے ہمیں کوئی اختلاف نہیں ـ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s