تیرھواں پارہ

تیرھواں پارہ

اس پارے میں تین حصے ہیں:

۱۔ سورۂ یوسف کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ رعد مکمل

۳۔ سورۂ ابراہیم مکمل

(۱) سورۂ یوسف کا بقیہ حصہ:

اس کی تفصیل پچھلے پارے میں مذکور ہوچکی ہے۔

(۲) سورۂ رعد میں پانچ باتیں یہ ہیں:

۱۔ قرآن کی حقانیت

۲۔ توحید

۳۔ قیامت

۴۔ رسالت

۵۔ متقین کی آٹھ صفات اور اشقیاء کی تین علامات

۱۔ قرآن کی حقانیت:

یہ نکتہ قابل غور ہے کہ جن سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ان کی ابتدا میں عام طور پر قرآن کا ذکر ہوتا ہے، ان مخالفین کو چیلنج کرنے کے لیے جو قرآن کریم کو معاذ اللہ انسانی کاوش قرار دیتے ہیں۔

۲۔ توحید:

آسمانوں اور زمین، سورج اور چاند، رات اور دن، پہاڑوں اور نہروں ، غلہ جات اور مختلف رنگوں، ذائقوں اور خوشبوؤں والے پھلوں کو پیدا کرنے والا وہی ہے اور موت اور زندگی ، نفع اور نقصان اس اکیلے کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ نے انسانوں کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں۔

۳۔ قیامت:

مشرکوں کو تو اس پر تعجب ہوتا ہے کہ مردہ ہڈیوں میں زندگی کیسے ڈالی جائے گی، جبکہ درحقیقت باعثِ تعجب بعث بعد الموت نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کا تعجب سے یہ کہنا باعث تعجب ہے۔

۴۔ رسالت:

ہر قوم کے لیے کوئی نہ کوئی رہنما اور پیغمبر بھیجا جاتا ہے۔

۵۔ متقین کی آٹھ صفات اور اشقیاء کی تین علامات:

متقین کی آٹھ صفات: (۱)وفاداری (۲)صلہ رحمی (۳)خوف خدا (۴)خوف آخرت (۵)صبر (۶)نماز کی پابندی (۷)صدقہ (۸)برائی کا بدلہ اچھائی سے

اشقیاء کی تین علامات: (۱)وعدہ خلافی (۲)قطع رحمی (۳)فساد فی الارض

(۳) سورۂ ابراہیم میں پانچ باتیں یہ ہیں:

۱۔ توحید

۲۔ رسالت

۳۔ قیامت

۴۔ چند اہم باتیں

۵۔ چھ دعائیں

۱۔ توحید:

تمام آسمانوں اور زمینوں کو اللہ نے بنایا ہے، اسی نے آسمان سے پانی اتارا ، پھر انسانوں کے لیے زمین سے قسم قسم کے پھل نکالے اور پانی کی سواریوں اور نہروں کو انسانوں کے تابع کردیا اور سورج اور چاند اور رات اور دن کو انسانوں کے کام میں لگادیا، غرض جو کچھ انسانوں نے مانگا اللہ نے عطا کیا، اس کی نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی گنتی بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔

۲۔ رسالت:

اس کے ضمن میں کچھ باتیں یہ ہیں:

۱۔ نبی علیہ السلام کی تسلی کے لیے بتایا گیا ہے کہ سابقہ انبیاء کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے اعراض و انکار اور عداوت و مخالفت کا یہی رویہ اختیار کیا تھا، جو آپ کی قوم اختیار کیے ہوئے ہے۔

۲۔ ہر نبی اپنی قوم کا ہم زبان ہوتا ہے۔

۳۔ پچھلی قوموں کے مکذبین کے کچھ شبہات کا ذکر کیا گیا ہے: (۱)اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں شک (۲)بشر رسول نہیں ہوسکتا (۳)تقلید آباء۔ ان شبہات کی تردید کی گئی ہے۔

۳۔ قیامت:

کافروں کے لیے جہنم اور مومنین کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔ جنت کی نعمتوں اور جہنم کی ہولناکیوں کا ذکر ہے۔ روزِ قیامت حساب کتاب ہوچکنے کے بعد شیطان گمراہوں سے کہے گا کہ جو وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا اور اور جو وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا ، میں نے تم پر زبردستی نہیں کی تھی، تم خود میرے بہکاوے میں آگئے تھے، اب مجھے ملامت کرنے کے بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔

۴۔ چند اہم باتیں:

(۱) شکر سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے اور ناشکروں کے لیے اللہ تعالٰی کا سخت عذاب ہے۔

(۲) کافروں کے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ تیز ہوا آئے اور سب اڑا لے جائے۔

(۳) حق اور ایمان کا کلمہ پاکیزہ درخت کی مانند ہے ، اس کی جڑ بڑی مضبوط اور اس کا پھل بڑا شیریں ہوتا ہے اور باطل اور ضلالت کا کلمہ ناپاک درخت کی مانند ہے ، اس کے لیے قرار بھی نہیں ہوتا اور وہ ہوتا بھی بے ثمر ہے۔

(۴) اللہ تعالیٰ ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے۔

۵۔چھ دعائیں:

حضرت ابرہیم علیہ السلام کی اپنے رب سے چھ دعاؤں کا ذکر ہے:

(۱)امن (۲)بت پرستی سے حفاظت (۳)اقامتِ صلاۃ (۴)دلوں کا میلان (۵)رزق (۶)مغفرت کی درخواست ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s