أفضل البشر بعد الأنبياء

علماء اہل سنت و جماعت کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل ہے ، حدیث شریف میں ہے کہ سرکار دو عالم صلى الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
ما طلعت الشمس ولا غربت على أحد أفضل من أبي بكر إلا أن يكون نبياً،
یعنی سوائے نبی کے اور کوئی ایسا شخص نہیں کہ جس پر آفتاب طلوع اور غروب ہوا ہو اور وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے افضل ہو ،

مطلب یہ ہے کہ دنیا میں نبی کے بعد ان سے أفضل کوئی پیدا نہیں ہوا ، اور ایک دوسری حدیث میں آقا دو جہاں صلى الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ،
ابوبکرن الصديق خير الناس إلا أن يكون نبياً
یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ لوگوں میں سب سے بہتر ہیں علاوہ ازیں کہ وہ نبی نہیں ہیں ،

ایک بار حضرت علی علیہ السلام منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ تمام لوگوں میں أفضل و اعلیٰ ہیں، اگر کسی شخص نے اس کے خلاف کہا تو وہ مفتری اور کذاب ہے اس کو سزا دی جائے گی جو افترا پردازوں کے لئے شریعت نے مقرر کی ہے ،

اور حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خير هذه الامت بعد نبيها أبو بكر و عمر
یعنی اس امت میں رسول اللہ صلی الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد سب سے بہتر حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما ہیں ،

علامہ ذہبی رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کا یہ قول ان سے تواتر کے ساتھ مروی ہے ، ( تاریخ الخلفاء ص 31)

اور بخاری شریف میں ہے کہ حضرت محمد بن حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد گرامی حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد لوگوں میں کون سب سے زیادہ افضل ہے ؟ قال أبو بكر فرمایا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ سب سے افضل ہیں ، میں نے عرض کیا پھر ان کے بعد ؟ قال عمر فرمایا حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سب سے افضل ہیں ، حضرت محمد بن حنیفہ فرماتے ہیں کہ خشيت ان يقول عثمان
یعنی میں ڈرا کہ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نام لیں گے تو میں نے کہا اس کے بعد آپ سب سے افضل ہیں قال ما أنا إلا رجل من المسلمين
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ میں تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہوں ، یعنی کہ میں ایک معمولی انسان ہوں ،

اور بخاری شریف میں ہی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ظاہری حیات میں ہم لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے ، یعنی وہی سب سے افضل و بہتر قرار دئیے جاتے تھے ، پھر حضرت عمر کو ان کے بعد حضرت عثمان کو (رضی اللہ تعالٰی عنہما) پھر حضرت عثمان کے بعد ہم صحابہ کرام کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے تھے ،اور ان کے درمیان کسی کو فضیلت نہیں دیتے تھے ،

اور حضرت ابو منصور بغدادی رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ اس بات پر امت مسلمہ کا اجماع اور اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ان کے بعد حضرت عمر فاروق پھر حضرت عثمان ان کے بعد حضرت علی پھر عشرہ مبشرہ کے باقی حضرات سب سے افضل ہیں ،ان کے بعد باقی أصحاب بدر پھر باقی أصحاب احد ان کے بعد بیعت الرضوان کے صحابہ پھر دیگر أصحاب رسول الله صلى الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم تمام لوگوں سے أفضل ہیں ،( رضوان الله تعالى علیہم اجمعین)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s