Ek Ahle Hadees Ka Ye Kahna Hai Ki Agar Namaz Me Rafa Yadain Karne Ko Sahi Muslim Me Shareer Ghodo Ki Dumo Se Tasbeeh Di Gayi Hai Awr Namaz Me Sukoon Ikhteyar Karne Ka Hukm Diya Gaya Hai To Eidain Ki Namazo Ke Liye Ye Hukm Kyo Nahi Hai? Kya Eidain Ki Namazo Me Sukoonat Ikhteyar Na Kare ?

السلام-علیکم

Suwal :

Ek Ahle Khabees Ka Ye Kahna Hai Ki Agar Namaz Me Rafa Yadain Karne Ko Sahi Muslim Me Shareer Ghodo Ki Dumo Se Tasbeeh Di Gayi Hai Awr Namaz Me Sukoon Ikhteyar Karne Ka Hukm Diya Gaya Hai To Eidain Ki Namazo Ke Liye Ye Hukm Kyo Nahi Hai? Kya Eidain Ki Namazo Me Sukoonat Ikhteyar Na Kare ?
Eidain Ki Namazo Ki Mumaniyat Alag Se Kyo Chahiye Jab Huzur Sall-Allahu-Alaihi-Wa-Aalihi-Wa-Sallam Ne Mutlakan Namaz Me Rafa Yadain Se Manaa Kiya Hai…??

الجواب بعون الملک الوھاب

پہلی بات یہ ہے کہ عام نمازوں اور عیدین و وتر میں فرق ہے۔ جب بھی احکامِ عیدین و وتر آتے ہیں ساتھ واضح لفظ عید یا وتر موجود ہوتا ہے۔ جب کہ اس حدیث میں عام نماز کا عمومی لفظ ہے،
*عن جابر بن سمرۃ: قال خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیلٍ شمسٍ اسکنوا في الصلوۃ۔ (صحیح مسلم ج ۱ ص ۱۸۱، ابوداود: ج ۱ ص ۱۵۰، نسائی ج ۱ ص ۱۷۶، طحاوی شریف ج ۱ ص ۱۵۸، مسند احمد ج ۵ ص ۹۳ و سندہ صحیح)

ترجمہ : حضرت جابرؓ بن سمرہ سے روایت ہے کہ آپﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں تم کو نماز میں شریر گھوڑوں کی دم کی طرح رفع یدین کرتے کیوں دیکھتا ہوں نماز میں ساکن اور مطمئن رہو۔ *
پس اصول کے لحاظ سے خصوص کو عموم پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، پس یہ قیاس مع الفارق ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جس رفع یدین کو شریر گھوڑوں کی دم فرمایا ہے وہ  بغیر ذکر کے رفع یدین ہے، اور عیدین و وتر کا رفع یدین اسی طرح تحریمہ کا رفع یدین ذکر کے ساتھ ہے۔ یعنی رفع یدین کا الگ سے ذکر موجود ہے۔
*عَنْ کُرْدُوْسٍ قَالَ:اَرْسَلَ الْوَلِیْدُاِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ َو حُذَیْفَۃَ وَ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ وَ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ بَعْدَ الْعَتَمَۃِفَقَالَ: اِنَّ ہٰذَا عِیْدُالْمُسْلِمِیْنَ،فَکَیْفَ الصَّلٰوۃُ؟ فَقَالُوْا:سَلْ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ فَسَاَلَہُ فَقَالَ:یَقُوْمُ فَیُکَبِّرُ اَرْبَعًا ثُمَّ یَقْرَئُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَ سُوْرَۃٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ یُکَبِّرُ وَ یَرْکَعُ فَتِلْکَ خَمْسٌ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَقْرَئُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُوْرَۃٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا یَرْکَعُ فِیْ آخِرِہِنَّ فَتِلْکَ تِسْعٌ فِی الْعِیْدَیْنِ فَمَا اَنْکَرَہُ وَاحِدٌ مِّنْہُمْ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی: ج4 ص393,392 رقم الحدیث9400)
ترجمہ:حضرت کردوس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت ابو مسعود اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کے پاس تہائی رات گزرنے کے بعد پیغام بھیجاکہ یہ مسلمانوں کی عید کا دن ہے، اس میں نماز کا کیا طریقہ ہے؟ ان سب نے کہا: ابو عبد الرحمن یعنی عبد اللہ بن مسعود  سے پوچھو۔ چنانچہ قاصد نے ان سے  پوچھاتو آپ نے فرمایا: کھڑے ہو کر چار تکبیریں(ایک تکبیر تحریمہ اور تین تکبیرات زائدہ) کہے۔پھر سورۃ الفاتحہ اور مفصل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے، یہ پانچ تکبیریں ہوئیں۔ پھر(دوسری رکعت میں) کھڑے ہو کر سورت فاتحہ اور مفصل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر چار تکبیریں کہے جن میں سے آخری تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے، عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں یہ نو تکبیریں بنتی ہیں۔ان سب حضرات میں سے کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔[جو کہ ان حضرات کی طرف سے زبر دست تائید ہے کہ یہی طریقہ صحیح ہے]

خاص ان تکبیرات کے وقت رفع یدین کرنے کا ثبوت:-

عَنْ اِبْرَاہِیْمَ النَّخْعِیِّ اَنَّہُ قَالَ: تُرْفَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ سَبْعِ مَوَاطِنَ؛فِی افْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ وَ فِی التَّکْبِیْرِ لِلْقُنُوْتِ فِی الْوِتْرِ وَ فِی الْعِیْدَیْنِ وَ عِنْدِ اسْتِلاَمِ الْحَجَرِ وَ عَلَی الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃِ وَ بِجَمْعٍ وَعَرَفَاتٍ وَ عِنْدَ الْمَقَامَیْنِ عِنْدَ الْجَمْرَتَیْنِ۔
(سنن الطحاوی:ج1ص417 باب رفع الیدین عند رویۃ البیت)

ترجمہ:جلیل القدر تابعی حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سات جگہوں میں رفع یدین کیا جاتا ہے۔(۱)  نماز کے شروع میں(۲)نمازِ وترمیں قنوت کے وقت (۳)عیدین میں (۴)حجر اسود کو سلام کے وقت، (۵) صفا و مروہ پر،(۶) مزدلفہ اورعرفات میں(۷)دو جمروں کے پاس ٹھہرتے وقت۔*
جب کہ غیر مقلدین عام نمازوں میں جو رفع یدین کرتے ہیں وہ بغیر ذکر کے ہے، یعنی رکوع کو جاتے ہیں تو اللہ اکبر کہتے ہیں، پس وہ اللہ اکبرانتقالِ رکوع کا ذکر ہے نہ کہ رفع یدین کا۔ اگر غیر مقلدین کہیں کہ وہ رفع یدین کا ذکر ہے تو پھر رکوع کی طرف انتقال کے وقت کا ذکر کہاں گیا؟ ہمارے وتر و عیدین کے رفع یدین چونکہ مع الذکر ہے تو اس کی تشبیہ گھوڑوں کی دمیں بنتی ہی نہیں، جبکہ غیر مقلدین کا رفع یدین بغیر ذکر کے ہے اس لیے وہ اس تشبیہ پر پورا پورا اترتے ہیں۔ چناچہ احناف کی رفع یدین اذناب خیل نہیں بلکہ  عبادت ہے کیونکہ اللہ پاک کا بھی فرمان ہے کہ  اقم الصلوٰۃ لذکری۔ پس یہ رفع یدین جو عیدین و وتر و تحریمہ کا ہے یہ بھی فرق کی وجہ سے الگ ہے اور قیاس مع الفارق ہونے کی وجہ سے غیر مقلدین کا یہ اعتراض باطل ثابت ہواـ

ھذا ما عندی
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
محمد شفیق حنفی
خادم: مجلس شرعی ممبئی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s