مولانا یــسین اختر مصباحی صاحب کا قلم تعمیرو اصلاح سے تخریب و تنقیدکی جانب رواں دواں ہے!

اے مومنوں نیــــاز دلاؤ امـــام کی
باقر کے لال صاحب عالی مقام کی

دہلی دارالقلم ایک نامور شخصت مولانا یــسین اختر مصباحی صاحب جو کبھی اپنے زور قلم سے اسلام دشمنوں کی نیند حرام کیئے ہوئے تھے آجکل نیند نا آنے کے سبب سنیت کے قلعے کو ہی مسمار کرنے کے درپے ہیں، آپ کی حالیہ تحریریں دیکھکر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اب جناب کا قلم تعمیرو اصلاح سے تخریب و تنقیدکی جانب رواں دواں ہےـــــ

سچ کہا کسی نے کرنے والے کاموں میں لگ جاؤ وگرنہ نہیں کرنے والے کاموں میں لگا دیئے جاؤگے

لگتا ہے بریلویت کی مارنے آپ کی ذہنی کیفیت کو متغیر کردیا ہے…..

ابھی ۲ دنوں قبل “امام جعفر کی فاتحہ” نامی ایک مقالہ نظر نواز ہوا سر تحریر علامہ موصوف کا نام دیکھ کر تعجب ہوا کہ پہلے آپ سوچ سمجھکر لکھتے تھے اب تو لکھ کر بھی سوچتے نہیں سمجھتے نہیں …..

تحریر سے کچھ اقتسابات جو مولانا کی علمی لیاقت کی شایان شان نہیں ہے اور ان کے خودکے عقیدہ اور عمــل کے خلاف ہیں ـ

۱) کونڈوں کی فاتحہ کی بابت آپنے فرمایا کی یہ۱۵۰ سال پرانی رسم ہےـ………………
یہی آپ کے برادران اکبر(اہلحدیث و دیابنہ) بھی فرماتے ہیں مگر دلیل میں اس رسالہ کی سن اشاعت تحریر کرتے ہیں جو امیر مینائی کی بیٹے خورشیدمینائی نے ۱۹۰۶ میں چھپوایا تھاـ داستان عجیب کے نام سے………… چونکہ آپ امیر القلم ہیں تو خــــدارا بتائیں کہ صحیح تاریخ کیا ہے؟ ؟
اس سے پہلے ایک مجدد کو ملاحظہ فرمالیں …
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہــلوی کی تحقیق کے مطابق اہلبیت سے وابسطہتقاریب وایام جیسے ۲۲ رجب کے کونڈوں کی فاتحہ قدیم زمانے سے چلی آرہی ہے، جو ہندوستان کی ایجادیں نہیں ہیں ـ
(تحفۂ اثنا عشریہ)

۲)”کہا جاتا ہیکہ” اس کی شروعات شیعوں نے کی تھی …………. لیجیئے جناب “کہا جاتا ہے” اس مجہول صیغہ کو بنیاد بنا کر آپ نے حکــم قطعی دے مارا ……جبکہ اس صیغہ مجہول سے تو کراہۃ ثابت ہونا مشــکل …….
خیر یہ کارنامہ آپ ہی کا حصہ تھاـ

۳) ابو یزید حضرت معاویہ کے وفات کی خوشی میں ………….
جناب اگر خوشی وفات کی تھی تو اس کی ابتداء ۱۳۰۰ سال پہلے سے ہی ہوجانا چاہئے تھا…..اتنی دیر سے کیوں؟
کیا ۱۵۰ سال پہلے شیعوں کو پتہ چلا کی ابویزید حضرت معاویہ کا انتقال ہوگیا ہے؟؟
قابل.غور یہ ہیکہ ابو یزید حضرت معاویہ کا یوم وصال علماء کی درمیان مختلف فیہ ہے
۱،۶،۸،۲۵ـ۲۶ میں سے کوئی ایک علامہ طبری نے فرماجا ۱رجب یا ۱۵ رجب یا (لثمان بقین من رجب) ماہ رجب کے ختم.ہونے میں ۸ دن باقی تھےـجس آپ لوگ ۲۲ رجب مراد لیتے ہی  مگر اشکال یہاں یہ ہے کی اس سال ماہ رجب ۲۹ کا تھا یا ۳۰ کا ۳۰ کا تھا تو دلیل کا محتاج ۲۹ کا ماہ تھا تو ۲۱ رجب تاریخ وفات ہوئی ـ اور قاعدہ استدلال کا یہ ہیکہ اذا تعارضا تساقط جب دو دلیلیں ٹکرا جائیں (اور ان میں تطبیق ممکن نا ہو)تو دونوں ساقط یو جاتی ہیں ـاب آپ ہی بتائیں یہ جو “کہا گیا” کہ ۲۲ رجب وفات تھی تو کس دلیل پر؟؟؟
یا صرف تاریخ اہلبیت میں مداخلت کے واسطے یہ مفروضہ گڑھا ہوا ہے؟؟

۴) مگر سنیوں کے خوف سے اسکا نام نیاز امام جعفر رکھ دیا…………………جناب جو قوم لعین اصحاب ثلاثہ پر تبرا کرتے ہوئے نا ڈرے، ام المؤمنیں کی شان پاک میں نازیبا کلمات کھلم کھلا تقریروں اور تحریروں میں کہتے لکھتے نا ڈرے وہ کونڈوں کو لے کر اتنا خائف کیوں کہ نام اور نسبت نیاز ہی بدلنے پر مجبور ہوگئی؟؟
اسکا جواب بھی آپ کے کمزور کاندھوں پر ادھار ہےـ

۵)اہلسنت کے نزدیک کسی کے ایصال ثواب کیلیئے کوئی تاریخ مخصوص نہیں کوئی طریقہ مخصوص نہیں ……………….۱۱ ربیع الغوث ، ۶ رجب  ، ۲۵ صفر ۲بجکر ۳۵ منٹ پر فاتحہ دینا (جس میں اب بدقسمتی سے آپکا داخلہ ممنوع ہوا ہے) ان سب مواقع پر آپنے اپنے زور قــــلم کو بروئے کار کیوں نہیں لایا؟؟
سنیت کا یہ قانون آپ کو نیاز امام صادق پر ہی کیوں یاد آیا؟؟
۱۵ شعبان کا حلوہ جس کے دفاع میں آپ نے عمـــر صرف فرمادی،
توشہ شریف پیران پیر جسے کھا کھاکر آپ کی رگیں اب تک جوان ہیں، ان پر تاریخ کےمخصوص نا ہونےکا فرمان کیوں نا جاری فرمایا؟؟

۶) کونڈوں کی نیاز میں امام صادق کی یوم وفات کا خیال رکھا جائے یعنی ۱۵ رجب……………….
جناب والا وفات نہیں شھادت کیا آپ بھول گئے کی امام جعفر صادق کو زہر دیکر شہید کیا گیا یے(مطالعہ کے لیئے عبدالحق محدث دہــلوی صاحب کی کتاب ائمہ اثنا عشر حاصل فرمالیں) شھادت امام مظلوم چھپا کر آپ کو کیا ملیگا؟

………….اگر نیاز امام صادق کے لیئے آپ کی تاریخ شہادت کا خیال رکھا جائے تو نیاز غوث اعظم کے لیئے کیوں نہیں؟؟
یاد ہے آپ نے خود ٹھیک ۱۱ ویں کے دن کئی دیگیں ہضم کی ہیں اور مائک پر دلائل بھی دیئے ہیں کی گیارہویں کرنا ثواب اور دن متعین کرنا طریق صحابہ و صالحین ہےـــ آج امام جعفر صادق کی فاتحہ کے وقت تہ ھذیان سے یہ مفروضہ کیسے ابل پڑا؟

۷)مشابہت ختم کرنے کانسخہ …………..
شایــد “حدیث تشبہ”کو پڑھکر یہ نتیجہ اخذ فرمایا ہے آپنے…ذرا شروح بھی پڑھنے کی تکلیف گوارا فرمالیتے جناب ……کسی کے مذھبی شعار میں تشبہ حرام ہے یہاں نیاز امام میں کیسی مشابہت، ان لعینوں سے سنیوں کا لینا دینا کیا؟ وہ مردود جو چاہیں کریں ہمیں تو ہمارے امام سیدنا جعفر الصادق سے غرض ہےـ

ہم سنی کل بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز ۲۲ رجب کو کرتے تھے اور ہمیشہ کرتے رہیں گےـان شاء اللہ

جناب والا یسین اختر صاحب بعض آجائیں، اہلبیت پاک سے محبت اخروی نجات کا واحد ذریعہ یے، اب کی عمــر بھی ہوچلی یے گوشہ نشینی فرمالیں شاید کے کچھ معافی تلافی کی راہ ہموار ہوجائے

فقط
ادح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s