مولانا یــسین اختر مصباحی صاحب کا قلم تعمیرو اصلاح سے تخریب و تنقیدکی جانب رواں دواں ہے!

اے مومنوں نیــــاز دلاؤ امـــام کی
باقر کے لال صاحب عالی مقام کی

دہلی دارالقلم ایک نامور شخصت مولانا یــسین اختر مصباحی صاحب جو کبھی اپنے زور قلم سے اسلام دشمنوں کی نیند حرام کیئے ہوئے تھے آجکل نیند نا آنے کے سبب سنیت کے قلعے کو ہی مسمار کرنے کے درپے ہیں، آپ کی حالیہ تحریریں دیکھکر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اب جناب کا قلم تعمیرو اصلاح سے تخریب و تنقیدکی جانب رواں دواں ہےـــــ

سچ کہا کسی نے کرنے والے کاموں میں لگ جاؤ وگرنہ نہیں کرنے والے کاموں میں لگا دیئے جاؤگے

لگتا ہے بریلویت کی مارنے آپ کی ذہنی کیفیت کو متغیر کردیا ہے…..

ابھی ۲ دنوں قبل “امام جعفر کی فاتحہ” نامی ایک مقالہ نظر نواز ہوا سر تحریر علامہ موصوف کا نام دیکھ کر تعجب ہوا کہ پہلے آپ سوچ سمجھکر لکھتے تھے اب تو لکھ کر بھی سوچتے نہیں سمجھتے نہیں …..

تحریر سے کچھ اقتسابات جو مولانا کی علمی لیاقت کی شایان شان نہیں ہے اور ان کے خودکے عقیدہ اور عمــل کے خلاف ہیں ـ

۱) کونڈوں کی فاتحہ کی بابت آپنے فرمایا کی یہ۱۵۰ سال پرانی رسم ہےـ………………
یہی آپ کے برادران اکبر(اہلحدیث و دیابنہ) بھی فرماتے ہیں مگر دلیل میں اس رسالہ کی سن اشاعت تحریر کرتے ہیں جو امیر مینائی کی بیٹے خورشیدمینائی نے ۱۹۰۶ میں چھپوایا تھاـ داستان عجیب کے نام سے………… چونکہ آپ امیر القلم ہیں تو خــــدارا بتائیں کہ صحیح تاریخ کیا ہے؟ ؟
اس سے پہلے ایک مجدد کو ملاحظہ فرمالیں …
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہــلوی کی تحقیق کے مطابق اہلبیت سے وابسطہتقاریب وایام جیسے ۲۲ رجب کے کونڈوں کی فاتحہ قدیم زمانے سے چلی آرہی ہے، جو ہندوستان کی ایجادیں نہیں ہیں ـ
(تحفۂ اثنا عشریہ)

۲)”کہا جاتا ہیکہ” اس کی شروعات شیعوں نے کی تھی …………. لیجیئے جناب “کہا جاتا ہے” اس مجہول صیغہ کو بنیاد بنا کر آپ نے حکــم قطعی دے مارا ……جبکہ اس صیغہ مجہول سے تو کراہۃ ثابت ہونا مشــکل …….
خیر یہ کارنامہ آپ ہی کا حصہ تھاـ

۳) ابو یزید حضرت معاویہ کے وفات کی خوشی میں ………….
جناب اگر خوشی وفات کی تھی تو اس کی ابتداء ۱۳۰۰ سال پہلے سے ہی ہوجانا چاہئے تھا…..اتنی دیر سے کیوں؟
کیا ۱۵۰ سال پہلے شیعوں کو پتہ چلا کی ابویزید حضرت معاویہ کا انتقال ہوگیا ہے؟؟
قابل.غور یہ ہیکہ ابو یزید حضرت معاویہ کا یوم وصال علماء کی درمیان مختلف فیہ ہے
۱،۶،۸،۲۵ـ۲۶ میں سے کوئی ایک علامہ طبری نے فرماجا ۱رجب یا ۱۵ رجب یا (لثمان بقین من رجب) ماہ رجب کے ختم.ہونے میں ۸ دن باقی تھےـجس آپ لوگ ۲۲ رجب مراد لیتے ہی  مگر اشکال یہاں یہ ہے کی اس سال ماہ رجب ۲۹ کا تھا یا ۳۰ کا ۳۰ کا تھا تو دلیل کا محتاج ۲۹ کا ماہ تھا تو ۲۱ رجب تاریخ وفات ہوئی ـ اور قاعدہ استدلال کا یہ ہیکہ اذا تعارضا تساقط جب دو دلیلیں ٹکرا جائیں (اور ان میں تطبیق ممکن نا ہو)تو دونوں ساقط یو جاتی ہیں ـاب آپ ہی بتائیں یہ جو “کہا گیا” کہ ۲۲ رجب وفات تھی تو کس دلیل پر؟؟؟
یا صرف تاریخ اہلبیت میں مداخلت کے واسطے یہ مفروضہ گڑھا ہوا ہے؟؟

۴) مگر سنیوں کے خوف سے اسکا نام نیاز امام جعفر رکھ دیا…………………جناب جو قوم لعین اصحاب ثلاثہ پر تبرا کرتے ہوئے نا ڈرے، ام المؤمنیں کی شان پاک میں نازیبا کلمات کھلم کھلا تقریروں اور تحریروں میں کہتے لکھتے نا ڈرے وہ کونڈوں کو لے کر اتنا خائف کیوں کہ نام اور نسبت نیاز ہی بدلنے پر مجبور ہوگئی؟؟
اسکا جواب بھی آپ کے کمزور کاندھوں پر ادھار ہےـ

۵)اہلسنت کے نزدیک کسی کے ایصال ثواب کیلیئے کوئی تاریخ مخصوص نہیں کوئی طریقہ مخصوص نہیں ……………….۱۱ ربیع الغوث ، ۶ رجب  ، ۲۵ صفر ۲بجکر ۳۵ منٹ پر فاتحہ دینا (جس میں اب بدقسمتی سے آپکا داخلہ ممنوع ہوا ہے) ان سب مواقع پر آپنے اپنے زور قــــلم کو بروئے کار کیوں نہیں لایا؟؟
سنیت کا یہ قانون آپ کو نیاز امام صادق پر ہی کیوں یاد آیا؟؟
۱۵ شعبان کا حلوہ جس کے دفاع میں آپ نے عمـــر صرف فرمادی،
توشہ شریف پیران پیر جسے کھا کھاکر آپ کی رگیں اب تک جوان ہیں، ان پر تاریخ کےمخصوص نا ہونےکا فرمان کیوں نا جاری فرمایا؟؟

۶) کونڈوں کی نیاز میں امام صادق کی یوم وفات کا خیال رکھا جائے یعنی ۱۵ رجب……………….
جناب والا وفات نہیں شھادت کیا آپ بھول گئے کی امام جعفر صادق کو زہر دیکر شہید کیا گیا یے(مطالعہ کے لیئے عبدالحق محدث دہــلوی صاحب کی کتاب ائمہ اثنا عشر حاصل فرمالیں) شھادت امام مظلوم چھپا کر آپ کو کیا ملیگا؟

………….اگر نیاز امام صادق کے لیئے آپ کی تاریخ شہادت کا خیال رکھا جائے تو نیاز غوث اعظم کے لیئے کیوں نہیں؟؟
یاد ہے آپ نے خود ٹھیک ۱۱ ویں کے دن کئی دیگیں ہضم کی ہیں اور مائک پر دلائل بھی دیئے ہیں کی گیارہویں کرنا ثواب اور دن متعین کرنا طریق صحابہ و صالحین ہےـــ آج امام جعفر صادق کی فاتحہ کے وقت تہ ھذیان سے یہ مفروضہ کیسے ابل پڑا؟

۷)مشابہت ختم کرنے کانسخہ …………..
شایــد “حدیث تشبہ”کو پڑھکر یہ نتیجہ اخذ فرمایا ہے آپنے…ذرا شروح بھی پڑھنے کی تکلیف گوارا فرمالیتے جناب ……کسی کے مذھبی شعار میں تشبہ حرام ہے یہاں نیاز امام میں کیسی مشابہت، ان لعینوں سے سنیوں کا لینا دینا کیا؟ وہ مردود جو چاہیں کریں ہمیں تو ہمارے امام سیدنا جعفر الصادق سے غرض ہےـ

ہم سنی کل بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز ۲۲ رجب کو کرتے تھے اور ہمیشہ کرتے رہیں گےـان شاء اللہ

جناب والا یسین اختر صاحب بعض آجائیں، اہلبیت پاک سے محبت اخروی نجات کا واحد ذریعہ یے، اب کی عمــر بھی ہوچلی یے گوشہ نشینی فرمالیں شاید کے کچھ معافی تلافی کی راہ ہموار ہوجائے

فقط
ادح

کربلا کے 72 شہداء علیہ السلام اجمعین اور اٹھارہ 18 بنی ہاشم علیہ السلام اجمعین کے مفصل حالات زندگی

تحفظ اسلام کی خاطر سر زمین اسلام کربلا پر سر سے گذرنے والے آسمان وفا کے بہتر ستارے ، اٹھارہ بنی ہاشم اور امام حسین علیہ السلام اجمعین کے مختصر حالات پر لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔
میں اپنی اس کاوش کو سید الشہدا کی دکھیا بہن شریکتہ الحسین ثانی زہرا بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے نام نامی اور اسم گرامی سے معنون کرتا ہوں ۔
حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق
یکے حسین رقم کرد و دیگرے زینب
آسمان وفا کے وہ 72 ستارے یعنی جانثاران حسین مظلوم علیہ السلام جو آفتاب امامت حضرت امام حسین علیہ السلام اور اٹھارہ بنی ہاشم کے ہمراہ زمین کربلا میں مٹی میں ملا دئے گئے۔۔ہ کربلا میں امام زین العابدین ، امام محمد باقر ، حسن مثنی، مرقع ابن قمامہ اسدی اور عقبہ ابن سمعان غلام جناب بی بی رباب کے علاہ کوئی مرد باقی نہ رہا تھا ۔
پیش نظر ایک فہرست شہداء علیہم السلام اجمعین ہے اور اس کے بعد ان کے مفصل حالات ۔ جو تاجدار انسانیت حضرت امام حسین علیہ اسلام کے ساتھ کربلا میں شہید راہ حق و اسلام ہوئے
فہرست انصار امام حسین علیہ السلام
۔۔۱ حضرت حر ابن یزید الریاحی
۔۲ علی ابن حر الریاحی
۔ نعیم بن العجلان الانصاری
۔۴۔عمران بن کعب الاشجعی
۔۵۔ حنظلہ ابن عمر الشیبانی
۔۶۔ قاسط بن زہیر التغلبی
۔۷۔ کردوس بن زہیر التغلبی
۔۸۔ کنانہ بن عتیق التغلبی
۔ ۹۔ عمر بن صبیقی الضبعی
۔ ۱۰۔ ضرغامہ ابن مالک التغلبی
۔۱۱۔ غامر بن مسلم العبدی
۔۱۲۔ سیف ابن مالک العبدی
۔ ۱۳۔ عبد الرحمان الارجبی
۔ ۱۴، مجمع بن عبداللہ العامذی
۔ ۱۵۔حیان بن حارث السلمانی
۔ ۱۶۔ عمرو بن عبداللہ الجندعی
۔ ۱۷۔ حلاس بن عما الراسبی
۔ ۱۸ ۔ نعمان بن عمرالراسبی
۔ ۱۹۔ سوار ابن ابی عمیر الہمدانی
۔ ۲۰۔ عمار ابن سلامتہ الدالانی
۔ ۲۱۔ زاہر بن عمر الکندی
۔ ۲۲۔ جبلہ ابن علی الشیبانی
۔ ۲۳۔ مسعود بن حجاج التیمی
۔ ۲۴۔ حجاح ابن بدر التیمیمی السعدی
۔ ۲۵۔ عبداللہ ابن بشر الخثعمی
۔ ۲۶۔ عمار ابن حسان الطائی
۔ ۲۷۔عبداللہ ابن عمیر الکلبی
۔ ۲۸۔ مسلم ابن کشیر الازدی
۔ ۲۹۔ زہیر ابن سیلم الازدی
۔۳۰۔ عبد اللہ بن یزید العبدی
۔۳۱۔ بشر بن عمر الکندی
۔۳۲۔ عبداللہ بن عروہ الغفاری
۔۳۳۔ بریر ابن خضیر الہمدانی
۔۳۴۔ وہب ابن عبداللہ الکلبی
۔۳۵۔ ادہم بن امیتہ العبدی
۔۳۶۔ امیہ بن سعد الطائی
۔۳۷۔سعد ابن حنظلہ التمیمی
۔۳۸۔ عمیر ابن عبداللہ المد حجی
۔۳۹۔ مسلم بن عوسجہ الاسدی
۔۴۰۔ ہلال ابن نافع البجلی
۔۴۱۔ سعید بن عبداللہ الحنفی
۔۴۲۔ عبد الرحمن بن عبد المزنی
۔۴۳۔ نافع بن ہلال الجملی
۔۴۴۔ عمر ابن قرظتہ الانصاری
۔۴۵۔ جون بن حوی غلام الغفاری
۔۴۶۔ عمر ابن خالد الصیدادی
۔۴۷۔ حنظلہ ابن اسعد الشبامی
۔۴۸۔ سوید ابن عمار الاتماری
۔۴۹۔یحیی بن سلیم المازنی
۔۵۰۔ قرہ ابن ابی قرتہ الغفاری
۔۵۱۔ مالک ان انس المالکی
۔۵۲۔ زیاد ابن غریب الصائدی
۔۵۳۔ عمر بن مطاع الجعفی۔
۔۵۴۔ حجاج ابن مسروق المدحجی
۔۵۵۔ زہیر ابن قین ابجلی
۔۵۶۔ حبیب ابن مظاہر الاسدی
۔۵۷۔ ابو ثمامہ عمرو بن عبداللہ الصیدادی
۔۵۸۔ انیس بن معقل الاصبحی
۔۵۹۔۔ جابر ان عروۃ الغفاری
۔۶۰۔ سالم مولی عامر العبدی
۔۶۱۔ جنادہ ابن کعب الخزرجی
۔۶۲۔ عمر بن جنادۃ الانصاری
۔۶۳۔ جنادہ بن الحرث السلمانی
۔۶۴۔ عابس ابن شبیب الشاکری
۔۶۵۔ شوذب ابن عبداللہ الہمدانی
۔۶۶۔ عبد الرحمان بن عروۃ الغفاری
۔۶۷۔ حرث ابن امرو القیس الکندی
۔۶۸۔ یزید ابن زیاد الہدلی
۔۶۹۔ ابو عمرو النہثلی
۔۷۰۔ جندب بن حجیر الخولانی الکندی
۔۷۱۔ سلمان بن مضارب الانماری
۔۷۲۔ مالک ابن عبداللہ الجابری
۔ شہدائے اٹھارہ بنی ہاشم علیہ السلام اجمعین
۔۱۔ عبداللہ ابن مسلم
۔۲۔ محمد ابن مسلم
۔۳۔ جعفر ابن عقیل
۔۴۔ عبد الرحمان بن عقیل
۔۵۔ عبداللہ ابن عقیل
۔۶۔ موسی ابن عقیل
۔۷۔ عون بن عبداللہ بن جعفر طیار
۔۸۔ محمد ابن عبداللہ بن جعفر طیار
۔۹۔ عبداللہ الاکبر عرف عمرو بن الحسن ابن علی ابن ابی طالب
۔۱۰۔ قاسم بن حسن ابن علی ابن ابی طالب
۔۱۱۔ عبداللہ ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب
۔۱۲۔ عبداللہ بن علی ابن ابی طالب
۔۱۳۔ عثمان بن علی ابن ابی طالب
۔۱۴۔ جعفر بن علی ابن ابی طالب
۔۱۵۔ علمدار کربلا عباس بن علی ابن ابی طالب
۔۱۶۔ علی اکبر بن الحسین الشہید ابن علی ابن ابی طالب
۔۱۷۔ محمد بن ابی سعید بن عقیل
۔۱۸۔ علی اصغر ابن الحسین الشہید ابن علی ابن ابی طالب
مفصل احوال زندگی و شہادت :
۔ ۱۔ حضرت حر ابن یزید الریاحی
آپ کا نام گرامی حر بن یزید ابن ناجیہ ابن قعنب بن عتاب بن حرمی ابن ایاح بن یربوع بن خنظلہ بن مالک بن زید مناۃ ابن تمیم الیرنوعی الریاحی تھا۔ آپ کا شمار کوفے کے روساء میں ہوتا تھا ۔ اور واقعہ کربلا اپ کی امام علیہ السلام سے پہلی ملاقات مقام شراف پر ہوئی تھی جب حر کا لشکر پانی کی تلاش میں بے حال اور پریشان تھا ۔ امام علی مقام ساقی کوثر نے لشکر کو سیراب کرنے کا حکم دیا اور اس کے بعد حر نے نماز امام کی اقتداء میں پڑہی اور بعد نماز بعد نماز راستہ روکنے اور محاصرہ کرنےکا عندیہ دیا ۔ امام نے فرمایا کہ حق پر جان دینا ہماری عبادت ہے راستے میں مقام عذیب پر طرماح ابن عدی اپنے 4 ساتھیوں سمیت امام سے آ ملے ۔ ۔ قصر بنی مقاتل پر مالک بن نصر حکم نامہ حاکم لے کے آیا جس میں مرقوم تھا کہ جہان یہ حکم ملے امام علیہ السلام کو وہیں ٹہرا دینا ۔ اور اس امر کا خاص خیال رکھا جائے کے آس پاس پانی اور جزی کا انتظام نہ ہو ۔ القصہ مختصر شب عاشور حر ساری رات پریشان اور متفکر رہے کہ جنت اور دوزخ میں سے کس کا انتخاب کریں ۔ اور صبح عاشور امام کی بارگاہ میں حاظر ہوئے اور ازن معافی اور ازن جہاد طلب کر کے پچاس دشمنوں کا واصل جہنم کر کے ایوب ابن مشرح کے تیر سے گھائل ہو کے گھوڑے سے نیچے گرے اور قسور ابن کنانہ کے تیر سے جو آپ کے سینے پر لگا شہید ہوئے ۔
ریاض الشہادت میں روایت ہے کہ بنی اسد نے امام حسین علیہ السلام سے ایک فرسخ کے فاصلے پر غربی جانب آپ علیہ السلام کو دفن کیا اور وہیں آپ علیہ السلام کا روضہ بنا ہوا ہے ۔
۔۲۔ علی ابن حر الریاحی
آپ حر بن یزید الریاحی کے بیٹے تھے ۔ نام علی تھا حر علیہ السلام کی شہادت کے بعد حر شہید کے قدموں سے اپنی آنکھوں کو ملایا اور امام علیہ السلام کے قدم بوس ہر کر ازن شہادت طلب کیا اور شہید ہوئے ۔
۔ ۳ ۔ نعیم بن العجلان الانصاری
آپ قبیلہ خزرج کے چشم و چراخ تھے اور آپ کے ۲ بھائی نضر اور نعمان اصحاب امیر المومنین علیہ السلام میں تھے اور آپ واقعہ کربلا میں عاشور کا اولین شہداء میں شامل ہوئے ۔ یہ وہ جنگ تھی جو صبح عاشور بوقت نماز فجر ہوئی تھی ۔ تاریخ میں جنگ مغلوبہ کے نام سے مشہور ہے ۔
۔۴۔۔عمران بن کعب الاشجعی
آپ کا پورا نام عمران بن کعب ابن حارث الاشجعی تھا ۔ آپ نے امام عالی مقام علیہ السلام جس وقت سے ساتھ دیا آخر دم تک اسی پر قائم رہے آپ بھی جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے ۔
۔۵۔۔ حنظلہ ابن عمر الشیبانی
آپ بھی امام علیہ السلام کے وفاداروں میں تھے اور جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے ۔
۔۶ ۔ قاسط بن زہیر التغلبی
جناب امیر المومنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے جمل، نہروان، صفین میں جانبازی سے شریک ہوئے تھے اور بہت جری تھے ۔ آپ کوفہ سے امام علیہ السلام کی نصرت کے لیے آئے تھے اور سبھ عاشور جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے ۔
۔۷۔ کردوس بن زہیر التغلبی
آپ کا نام کردوس بن زہیر حرث تغلبی تھا آپ قاسط بن زہیر کے حقیقی بھائی تھے اور امیر المومنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے ۔ روایت ہے کہ آپ بھی اپنے تیسرے بھائی مسقط بن زہیر کے ہمراہ امام علیہ السلام کی نصرت کے لیے شب عاشور کربلا میں وارد ہوئے تھے اور جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے ۔
۔۸۔ کنانہ بن عتیق التغلبی
آپ کوفہ کے مشہور پہلوانوں میں شمار ہوتے تھے ۔ قرات قران میں بھی شہرت رکھتے تھے ۔ کربلا میں جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے ۔
۔۹۔ عمر بن صبیقی الضبعی
آپ کا پورا نام عمر بن صبیقہ ابن قیس بن ثعلبتہ الضبعی تھا۔ ابن سعد کے لشکر کے ہمراہ امام علیہ السلام سے مقابلے کے لیے کربلا آئے تھے ۔ لیکن صحیح حالات سے با خبر ہونے کے بعد لشکر کو خیر باد کہہ کر امام علیہ السلام کی بارگاہ میں معافی طلب کر کے جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے ۔
۔ ۱۰۔ ضرغامہ ابن مالک التغلبی
آپ کا نام اسحاق اور لقب ضرغامہ تھا ۔ آپ امیرالمو منین علیہ السلام کے جانباز صحابی مالک اشتر کے بیٹے اور ابراہیم بن مالک کے بھائی تھے ، کوفے میںجناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کے ہاتھ پر امام علیہ السلام کی بیعت کر کے کربلا پہنچ کر یوم عاشور 500 درندوں کو واصل جہنم کر کے شہید ہوئے ۔
۔ ۱۱ ۔ غامر بن مسلم العبدی.
آپ امیرالمومنین علیہ السلام کے شعیہ اور بصرہ کے رہنے والے تھے آپ کا پورا نام غامر بن مسلم عبدی المطری تھا آپ مکہ معظمہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ ہو گئے تھے اور تا دم آخر ساتھ ہی رہے ۔اپ کے ہمراہ آپ کا غلام سالم بھی تھا ، زیارت ناحیہ کی بناء پر آپ کا غلام بھی آپ کے ہمراہ ہی شہید ہو ا۔
۔۱۲ ۔ سیف ابن مالک العبدی
آپ امیر المومنین علیہ السلام کے خاص اصحاب میں سے تھے امام علیہ السلام کی نصرت کے لیے ماریہ کے مکان پر جو خفیہ اجتماع ہوا کرتا تھا آپ اس میں شامل ہوا کرتے تھے۔ اپ نے مکہ میں امام علیہ السلام کی معیت اختیار کی اور جنگ ملغوبہ میں یوم عاشور کو شہید ہوئے ۔
۔۱۳۔ عبد الرحمان الارجبی
آپ قبیلہ بنو ہمدان کے شاخ بنوار جب کے چشم و چراغ تھے اپ کا پورا نام عبد الرحمن بن عبداللہ الکذن بن ارجب بن دعام بن مالک بن معاویہ بن صعب بن رومان بن بکیر الھمدانی الارجبی تھا۔ آپ اس دوسرے وفد کے ایک رکن تھے جو کوفے سے خطوط لے کے مکہ گئے تھے جبکہ آپ کے ہمراہ قیس اور 50 خطوط تھے ۔ یہ وفد12 رمضان کو امام علیہ السلام کی بارگاہ میں پہنچا تھا ۔ کچھ مورخین کا کہنا ہے کے جناب مسلم علیہ السلام کے ہمراہ یہی عبد الرحمن ، قیس اور عمارہ شامل تھے ۔ عبد الرحمن جناب مسلم کو کوفے پہنچا کر واپس امام علیہ السلام کی خدمت میں مستقل شامل ہو گئے تھے اور عاشور کو امام علیہ السلام کے ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہوئے ۔
۔ ۱۴، مجمع بن عبداللہ العامذی
آپ قبیلہ مذحج کے نمایاں فرد تھے ۔ آپ کو امیر المومنین علیہ السلام کے صحابی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے امام علیہ السلام مقام عذیب میں کوفے کے تمام حالات سے آگاہ کیا تھا اور کوفہ جانے والے امام کے آخری قاصد قیس ابن مہر کی گرفتاری اور انکی شہادت سے امام علیہ السلام کو آگاہ کیا تھا۔آپ بھی جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے ۔ کچھ روایات نے آپ کے ہمراہ آپ کے فرزند عائذ بن مجمع کی شہادت بھی کربلا میں لکھی ہے ۔
۔۱۵۔حیان بن حارث السلمانی
آپ قبیلہ ازو کے چشم و چراغ تھے ۔ مدینے سے کربلا جاتے ہوئے امام علیہ السلام کے ہمراہ ہوئے اور صبح عاشور جنگ ملغوبہ میں امام علیہ السلام کی نصرت کرتے ہوئے شہید ہوئے ۔
۔۱۶۔ عمرو بن عبداللہ الجندعی
جندع قبائل ہمدان کی ایک شاخ کا نام تھا آپ کربلا میں شامل لشکر ہوئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے ۔ علامہ مجلسی ، فاضل اربلی اور سپہر کاشانی نے اپنی کتابوں میں جنگ ملغوبہ کےبجائے میدان کارزار میں شہادت بیان کی ہے ۔ زیارت ناحیہ میں ورد آگین الفاظ کے ساتھ آپ پر سلام کیا گیا ہے ۔
۔۱۷۔ حلاس بن عمر الراسبی
آپ کوفہ کے رہائشی اور قبیلہ ازو کی شاخ راسب کی یادگار تھے اصحاب امیر المومنین علیہ السلام میں شمار ہوتے تھے ۔ کوفہ سے عمر سعد کے لشکر کے ہمراہ آئے تھے اور جب آپ کو یقین ہو گیا کے صلح نہ ہو سکے گی تو شب عاشور امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے ۔
۔۱۸ ۔ نعمان بن عمر الراسبی
آپ بھی قبیلہ ازو کے چشم و چراغ تھے اپ حلاس ازدی کے سگے بھائی تھے لشکر ابن سعد سے بغاوت کر کے شب عاشور امام علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہو کر حیات ابدی کے مالک بن گئے ۔
۔۱۹۔ سوار ابن ابی عمیر الہمدانی
آپ ھمدان کے رہنے والے تھے اور محرم کے مہینے میں امام علیہ السلام کے پاس پہنچے تھے ۔ اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے ۔
۔۲۰۔ عمار ابن سلامتہ الدالانی
آپ قبائل ہمدان کی ایک شاخ بنی دالان کے ایک معزز فرد تھے اورآپ کو صحابی رسول صلی علیہ و آل وسلم اور صحابی امیر المومنین علیہ السلام ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ جنگ جمل ، صفین و نہروان میں حضرت امیر المومنین کے ساتھ رہے ۔ آپ بھی جنگ ملغوبہ میں شہیند ہوئے ۔
۔۲۱۔ زاہر بن عمر الکندی
آپ امیر المومنین علیہ السلام کے ایک صحابی عمرو بن الحمق کے ساتھ ہر وقت ہمراہ رہتے تھے آپ نہایت زبردست پہلوان مشہور تھے اور عرب کے لوگ آپ سے متاثرتھے آپ حج کے لیے مکہ پہنچے اور پھر امام علیہ السلام کے ہمراہ ہو گئے۔ آپ مکہ سے کربلا امام علیہ السلام کے ہمراہ آئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے ۔ آپ کے پوتوں میں محمد بن سنان امام رضا علیہ السلام اور امام محمد تقی علیہ السلام کے روایوں میں شامل ہیں محمد ابن سنان کی وفات 220 ہجری میں ہوئی ۔
۔۲۲۔ جبلہ ابن علی الشیبانی
آپ جناب مسلم علیہ السلام کی شہادت کے بعد کوفے سے نکل کر امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہو گئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے ۔
۔۳۔ مسعود بن حجاج التیمی
آپ امیر المومنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک تھے۔ آپ ابن سعد کے لشکر کے ہمراہ کربلا پہنچے اور پھرامام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر جبگ ملغوبہ میں شہید ہو کر حیات ابدی کے مالک بن گئے ۔ علماء نے لکھا ہے کہ اپ کے ہمراہ اپ کے فرزند عبد الحمن ابن مسعود بھی شہید ہوئے تھے ۔
۔۲۴۔ حجاح ابن بدر التیمیمی السعدی
اپ بصرہ کے رہنے والے تھے اور آپ کا تعلق بنی سعد سے تھا آپ رئیس بصرہ مسعود بن عمر کا خط لے کر امام علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پھر واپس نہیں گئے ۔ اور یوم عاشور جنگ ملغوبہ میں امام علیہ السلام پر قربان ہو گئے ۔
۔۲۵۔ عبداللہ ابن بشر الخثعمی
آپ ابن سعد کے لشکر کے ہمراہ کوفہ سے کربلا آئے تھے اور اور صبح عاشور امام علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر جنگ ملغوبہ میں شہید ہو کر شہداء میں شامل ہوئے ۔
۔۲۶۔ عمار ابن حسان الطائی
آپ امام عالی مقام علیہ السلام کے ساتھ مکہ سے کربلا آئے اور صبح عاشور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے
۔۲۷۔عبداللہ ابن عمیر الکلبی
آپ قبیلہ علیم کے چراغ تھے آپ پہلوانی میں بہت ماہر تھے اور کوفہ کے محلہ ہمدان کے قریب چاہ جعد میں رہتے تھے ۔ کوفہ سے اپنی زوجہ کے ہمراہ نکل کر امام کی لشکر میں شامل ہوئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے ۔ آپ کی زوجہ ام وہب جب آپ کی لاش پر پہنچی تو شمر کے ایک غلام رستم نے اس مومنہ کے سر پر گرز کا وار کر کے ان کو بھی شہید کر دیا ۔ آپ کی زوجہ کو کربلا کی پہلی خاتون شہید کہا جاتا ہے ۔
۔۲۸۔ مسلم ابن کشیر الازدی:
آپ امام علیہ السلام کے کربلا پہنچنے سے قبل کسی مقام پر امام علیہ السلام کے ہمراہ شامل ہو گئے تھے اور صبح عاشور شہید ہوئے ۔ کچھ مورخین نے لکھا ہے کہ آپ کے ہمراہ آپ کے ایک غلام رافع ابن عبد اللہ بھی شامل تھے جو کربلا میں نماز ظہر کے بعد شہید ہوئے ۔
۔۲۹۔ زہیر ابن سیلم الازدی:
آپ قبیلہ ازد کے نمایاں فرد تھے اور شب عاشور امام علیہ السلام کی بارگاہ میں پہنچ کو شامل لشکر ہوئے اور صبح عاشور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے ۔
۔۳۰۔ عبداللہ بن یزید العبدی :
آپ اپنی قوم کے سردار اور کوفے میں ماریہ کےگھر جو اجلاس ہوتا تھا اس میں شرکت کرتے تھے آپ مکہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوئے اور کربلا میں اولین جنگ میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا ۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ آپ کے بھائی عبید اللہ اور والد گرامی یزید ابن ثبیط بھی مکہ سے ہم رکاب ہوئے اور عبید اللہ نے اولین اور بعد نماز جنگ میں والد نے شہادت پائی ۔
۔۳۱۔ بشر بن عمر الکندی :
آپ حضر موت کے رہنے والے تھے اور قبیلہ کندہ کے فرد تھے آپ بھی جنگ اولین میں شہید ہوئے ۔
۔۳۲۔ عبداللہ بن عروہ الغفاری :
آپ کربلا میں امام علیہ السلام سے آ کر ملے اور جنگ ملغوبہ میں شہادت پائی ۔
۔۳۳۔ بریر ابن خضیر الہمدانی :
آپقبیلہ بنو ہمدان کی شاخ بنو مشرق کی عظیم شخصیت تھے ۔ انصار امیر المومنین علیہ السلام تھے اور مکہ سے اما علیہ السلام کے ہم رکاب ہوئے ۔ شب عاشور پانی کی جدوجہد میںجو کارنامہ کیا ہے وہ تاریخ میں سونے کے حروف سے رقم ہے ۔ آپ کا شب عاشور پانی لانا وہ واقعہ تاریخ میں رقم ہے ۔ مائتین صفحہ 316-323 ۔ یوم عاشور سب سے پہلا گریہ جو امام علیہ السلام نے فرمایا وہ آپ کی کی جسد خاکی پر کیا تھا “ان بریر امن عباد اللہ الصالحین “” ہاے بریر ہم سے جدا ہو گئے جو خدا کے بہترین بندوں میں سے ایک تھے ”
۔۳۴۔ وہب ابن عبداللہ الکلبی:
یہ حسینی بہادر نصرانی تھا اور کسی سفر میں اپنی بیوی اوروالدہ کے ہمراہ جا رہا تھا امام علیہ السلام کے نصرت کے لیے رکا اور اسلام قبول کیا اور کتاب ذکر العباس میں تفصیل سے موجود ہے ۔ آپ نے 24 پیادے ۔ قتل کیے اور آپ کی شہادت کے بعد آپ کی زوجہ آپ کی لاش پر گئیں اور اسی دوران شمر کے حکم پر اسک کے غلام رستم نے اپ کو بھی شہید کر دیا ۔ بعض مورخین نے آپ کی زوجہ کو پہلی خاتون شہید لکھا ہے ۔ روایت ہے کے اپ کا سر کات کے خیام حسینی کی طرف پحینکا گیا تو آپ کی والدہ نے واپس میدان کی طرف پحینک دیا اور فرمایا ” ہم راہ مولا علیہ السلام میں جو چیز دے دیتے ہیں اس واپس نہیں لیتے ۔”روایت ہے کہ آپ کی والدہ نے بھی 2 دشمنوں کو واصل جہنم کیا تھا ۔۔ دمعہ ساکبہ ص 331 ، طوفان بکا13
۳۵۔ ادہم بن امیتہ العبدی
آپ بصرہ کے رہنے والے تھے اور کوفہ میں سکونت اختیار کی تھی ۔ ماریہ کے مکان پر ہونے والے تمام اجلاسوں میں شریک ہوئے ۔ ایک دن یزید بن ثبیط نے کہا کے میں امام علیہ السلام کی امداد کے لیے مکہ جا رہا ہوں ۔ آپ نے کہا کے میں بھی ساتھ چلوں گا ۔ آپ مکہ پہنچے اور یوم عاشور اپنی جان عزیز امام علیہ السلام پر قربان کر کے امر ہو گئے ۔
۔۳۶۔ امیہ بن سعد الطائی
آپ کوفے میں رہتے تھے جب آک کو علم ہوا کے مام حسین علیہ السلام کربلا پہنچح گئے ہیں تو آپ فی الفور کوفے سے نکل کر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر امام علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہو گئےاور یوم عاشور کمال جذبہ قربانی کے پیش نظر امام علیہ السلام اور اسلام پر قربان ہو گئے ۔
۔۳۷۔سعد ابن حنظلہ التمیمی
آپ کے بیشتر حالات تاریخ میں موجود نہیں ہیں مگر ایک جملہ موجود ہے کہ آپ نہایت بے جگری سے لڑے اور بہت سے دشمنوں کو فناکے گھاٹ اتار کر میدان کارزار میں جام شہادت نوش کیا۔
۔۳۸۔ عمیر ابن عبداللہ المد حجی
جناب سعد ابن حنظلہ کی شہادت کے بعد آپ میدان میں آئے اور کمال بے جگری سے لڑ کر بالاخر مسلم صبانی اور عبداللہ بجلی نے آپ کو شہید کیا ۔
۔۳۹۔ مسلم بن عوسجہ الاسدی
آپ کو صحابی رسول ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ 24 ہجری میں فتح آذربائیجان میں حذیفہ یمان کے ہمراہ جو کارنامے انجام دءے وہ تاریخ میں موجاد ہیں ۔ نو محرم کی شام میں امام علیہ السلام کا وہ خطبہ جس میں امام علیہ السلام نے جب انصار اور احباب سے واپس جانے کو کہا تھا تو اعزاء کی طرف سے حضرت عباس علمدار علیہ السلام اور انصار کی طرفجناب مسلم بن عوسجہ نے کہا تھا ” کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا ہم اگر سار عمر مارے جائیں اور جلا بھی دئے جائیں تب بھی آپ کی معرفت اور ساتھ نہیں چھوڑیں گے ۔ آپ علیہ السلام کی خدمت میں شہادت ، شہادت عظیم ہے۔”
شب عاشور جب خندق کے گرد آگ جلانے پر لشکر کفار سے لڑائی ہوئی تھی تو آپ نے ہی اسکا منہ توڑ جواب دیا تھا۔
جب آپ مسلم بن عبداللہ اور عبداللہ بن خشکارہ بلخی کے ہاتھوں شہید ہوئے تو شبت ابن ربعی اگر چہ دشمن تھابولا ” افسوس تم ایسے شخص کے مرنے پر خوشی کر رہے ہو جس کے اسلام پر احسانات ہیں جس نے جنگ آزربائیجان میں مشرکوں کی کمر توڑ دی تھی “
آپ کی شہادت کے بعد آپ کے فرزند میدان میں آءے اور 30 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے ۔
۔۴۰۔ ہلال ابن نافع البجلی
آپ کی پرورش امیر المومنین علیہ السلام نے کی تھی ۔ تیر اندازی میں ثانی نہیں رکھتے تھے ۔ اور عادت تھی کی تیروں پر اپنا نام کندہ کر کے استعمال کرتے تھے ۔ شب عاشور امام علیہ السلام کے ہمراہ تھے اور موقعہ جنگ کا معائنہ کیا ۔ ترکش میں موجود 80 تیروں سے 75 دشمنوں کو قتل کیا اور اسکے بعد تلوار سے 13 کو واصل جہنم کیا ۔ اور پھر کفار کی طرف سے اجتماعی حملے میں شہید ہوئے ۔
۔۴۱۔ سعید بن عبداللہ الحنفی
آپ کوفے کی نامی گرامی اشخاص میں تھے ۔ اور میدان کربلا میں بوقت نماز ظہر جب دوران جماعت دشمنوں نے تیر اندازی شروع کی تو آپ امام علیہ السلام کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ایک بھی تیر امام کی طرف آنے نہ دیا تا اینکہ شہید ہو گئے ۔
۔۴۲۔ عبد الرحمن بن عبد المزنی
آپ نہایت سعید اور محب آل محمد تھے یوم عاشور اذن جنگ حاصل کر کے میدان میںآئے اور بے جگری سے لڑ کر شہید ہوئے ۔
۔۴۳۔ نافع بن ہلال الجملی
آپ امیر المومنین علیہ السلام کے اصحاب میں شامل تھے جمل ، نہروان ،اور صفین میں شر کت کی ۔ کربلا میں سعی آب کی کوششوں میں علمدارکربلا کے ساتھ شریک ہوئے ۔ 12 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے۔
۔۴۴۔ عمر ابن قزظتہ الانصاری
آپ مدینہ سے آ کر کوفہ میں مقیم ہو گئے تھے اصحاب امیر المومنین میں شامل تھے ۔ میدان کربلا میں امام علیہ السلام کے پیغامات عمر بن سعد تک پہنچایا کرتے تھے ۔ آپ نے بہت بے جگری سے جنگ لڑی اور با لا خر شہید ہو کر راہ حق میں کامیاب ہوئے ۔
۔۴۵۔ جون بن حوی غلام الغفاری
آپ جناب ابوزر غفاری کے غلام تھے ۔ جون پہلے امام حسن علیہ السلام کی خدمت کرتے تھے اور اس کے بعد امام علیہ السلام کے خدمت میں مصروف ہو گئے ۔آپ امام علیہ السلام کے ہمراہ مکہ سے مدینہ اور کربلا آئے ، عاشورہ کے دن آپ پہلے فرد ہیں جن کو امام علیہ السلام نے کئی بار ازن شہادت طلب کرنے کا با وجود منع فرمایا اور کہا ” جون مجھے پسند نہیں کہ میں تم کو قتل ہوتا دیکھوں “ پھر جون کا وہ جملہ جو تاریخ میں مرقوم ہے ” مولا میرا پسینہ بدبودار ، حسب خراب اور رنگ کالا ہی سہی لیکن عزم شہادت میں کوئی خامی نہیں ہے۔ مولا بہرا خدا اجازت عطا کریں تا کہ سرخ رو ہو سکوں۔”۔ ازن ملنے کے بعد جب آپ شہید ہو گئے تو امام علیہ السلام نے دعا فرمائی کہ ” پروردگار ان کے پسینے کو مشکبار رنگ کو سفید اور حسب کو آل محمد کے انتساب سے ممتاز کر دے “ روایت ہے کہ دعا ختم ہوتے ہیں جون مثل گلاب اور پسینہ انتہائی معطر ہو گیا تھا۔
۔۴۶۔ عمر ابن خال الصیدادی
آپ کوفہ سے نکل کر مقام عذیب پر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یوم عاشورہ کو عروس شہادت ہے ہم کنار ہوئے ۔
۔۴۷۔ حنظلہ ابن اسعد الشبامی
آپ امام علیہ السلام کے پاس کربلا میں پہنچے تھے اور بہت جواں مردی کے ساتھ جنگ کر کے شہید ہوئے ۔
۔۴۸۔ سوید ابن عمار الاتماری
آپ بڑے شجاع اور آزمودہ کار زار تھے آپ کو میدان کربلا میں عروہ بن بکار اور یزید بن ورقا نے شہید کیا۔
۔۴۹۔یحیی بن سلیم امازنی
آپ شب عاشور بریر ہمدانی کے ساتھ پانی کے لیے کی جانے والی کوشش میں شریک تھے اور۔ یوم عاشور کو امام علیہ السلام کے انصاروں کے ساتھ میدان کربلا میں شہید ہوئے ۔
۔۵۰۔ قرہ ابن ابی قرتہ الغفاری
آپ نہایت شریف اور جانباز تھے ۔ یوم عاشور امام علیہ السلام سے اجازت حاصل کرنے کے بعد دشمن پر اتنی بے جگری سے حملے کیے کہ اند کے دانت کھٹے کر دئے ۔ آپ رجز پڑھتے اور حملے کرتے یہاں تک کے شہید ہو گئے۔
۔۵۱۔ مالک ان انس المالکی
آپ کا نام انس بن حرژ بن کاہل بن عمر بن صعب بن اسد بن حزیمہ اسدی کاہلی تھا ۔ آپ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے صحابی اور راوی حدیث بھی ہیں ۔ آپ کوفہ سے نکل کے امام علیہ السلام کی بارہ میں کربلا میں حاضر ہوئے ۔ آپ نہایت کبیر السن تھے ۔یو یوم عاشور ظہر کی نماز سے کچھ پہلے شہید ہوئے۔
۔۵۲۔ زیاد ابن غریب الصائدی
آپ کی کنیت ابو عمرۃ تھی ۔ اپ بنی ہمدان کی شاخ بنی حائد کی چراغ تھے۔ امام علیہ السلام سے کربلا میں ملاقات کی اور درجہ شہادت حاصل کیا ۔ آپ کا قاتل عامر بن نہشل تھا۔
۔۵۳۔ عمر بن مطاع الجعفی
۔ امام علیہ السلام سے کربلا میں ملاقات کی اور درجہ شہادت حاصل کیا ۔
۔۵۴۔ حجاج ابن مسروق المدحجی
آپ کا شمار انصار امیر المومنین علیہ السلام میں ہوتا تھا ۔ امام علیہ السلام کی مکہ سے روانگی کا سن کر آپ بھی کوفہ سے عازم سفر ہوئے اور منزل قصر بنی مقاتل میں شرف ملاقات حاصل کیا اور ، 15 دشمنوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد واپس امام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے واپسی پر آپ کا غلام ” مبارک ” بھی ہمراہ ہو گیا دونوں نے کمال کی جنگ کی اور 150 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے
۔۵۵۔ زہیر ابن قین ابجلی
آپ کوفہ کے رہائشی تھے پہلے عثمانی بعد میں حسینی علوی ہو گئے ۔ حج سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ واپسی پر امام علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور امام علیہ السلام کے ہمراہ ہو گئے ۔ امام کے لشکر میں شامل ہونے کے بعد اپنی زوجہ کو طلاق دے کے واپس بھیج دیا اور خود شیہد ہو گئے۔ روایت ہے کہ شب عاشور جب ایک رات کی مہلت لینے کے لیے علمدار کربلا گئے تحے تو آپ بھی ان کے ہمراہ گئے تھے ۔ مورخین کا اتفاق ہے کہ امام علیہ السلام کے لشکر کے میمنہ کی سربراہی بھی جناب کو ہی عطا کی گئی تھی۔ آپ ناے 120 افراد کو قتیل کر کے جام شہادت نوش کیا ۔
۔۵۶۔ حبیب ابن مظاہر الاسدی
آپ صحابی رسول صلی علیہ و آلہ وسلم تھے اور امام علیہ السلام کے بچپن کے دوست تھے ۔ آپ کاایک اعزاز یہ بھی ہے کہ آپ نے ۳ اماموں علیہ السلام اجمعین کی صحبت کو شرف حاصل کیا ۔ روایت ہے کہ مقام زرو پر امام نے اپ کی آمد کا انتظار کیا ۔ اور میسرہ کی کمان آپ کے سپرد کی ۔ یوم عاشور آپ نے 62 دشمن واصل نار کیے اور بدیل ابن حریم عفقائی کی تلوار کی ضرب سے گھائل ہئوے اور حصین بن نمیر نے تلوار جو آپ کے سر مبارک پر لگی شہید ہوئے ۔ روایت ہے کہ آپ کا قاتل ابن زیاد سے 100 درہم کا انعام لے کے اور آپ کا سر مباک گھوڑے کی گردن میں لٹکا کر مکہ پہنچا جہان حبیب کے ایک فرزند نے اس کو قتل کر کے آپ کا سر مبارک مقام معلی میں جو اب ” راس الحبیب ” کے نام سے مشہور ہے دفن کر دیا ۔
۔۵۷۔ ابو ثمامہ عمرو بن عبداللہ الصیدادی
آپ نماز ظہر کے لیے عین ہنگامہ کارزار میں امام علیہ السلام جب امامت فرما رہے تھے ۔ آپ نے امام علیہ السلام کی حاظت کرتے ہوئے ۔ کمال دلیری سے شمشیر زنی کی اور اپنے چچا زاد بھائی قیس ابن عبداللہ انصاری کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔
۔۵۸۔ انیس بن معقل الاصبحی
آپ آلمحمد علیہ السلام کے جانثاروں میں سے تھے ۔ یوم عاشور ظہر کی نماز سے کچھ پہلے 10 دشمنوں کو قتل کرنے کے بعد شہید ہوئے ۔
۔۵۹۔۔ جابر ابن عروۃ الغفاری
آپ صحابی رسول تھے ۔ اور کافی غزوات میں شریک ہوئے ۔ آپ نہایت ضعیف تھے ۔ جنگ پر جانے سے قبل اپ نے عمامہ سے اپنی کمر اور ایک کپڑے سے اپنے پلکوں کو اٹھا کر باند لیا تھا ۔ غضب کا معرکہ لڑا اور 60 افراد کو قتیل کر کے شہید ہوئے۔
۔۶۰۔ سالم مولی عامر العبدی
آپ بصر کے رہنے والے تھے اور مکہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوئے ۔ اور کربلا میں شہید ہوئے ۔
۔۶۱۔ جنادہ ابن کعب الخزرجی
آپ قبیلہ خزرج کی یادگار تھے اور مکہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوئے۔ 18 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے ۔
۔۶۲۔ عمر بن جنادۃ النصاری
آپ جنادہ ابن کعب کے فرزند اور کم تھے باپ کی شہادت کے بعد والدہ نے آپ کو تیار کر کے امام علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کیا امام نے کہا ” ابھی تمہارا پاب شہید ہوا میں تم کو اجازت نہیں دے سکتا” تو آپ کی والدہ نے امام علیہ السلام امام کی قدم بوسی کی اور اجازت طلب کی ۔ امام علیہ السلام سے اجازت لے کر میدان میں گئے اور شہید ہوئے ۔ روایت ہے کہ قاتل نے سر کاٹ کر خیام کی طرف پھینکا تو آپ کی والدہ نے واپس میدان میں پھینک دیا جو قاتل کی سینے پر لگا اور وہ وہیں واصل جہنم ہو گیا ۔
۔۶۳۔ جنادہ بن الحرث السلمانی
اپ کوفہ کے رہائشی تھے اور امام علیہ السلام سے راستے میں ملاقات کر کے شامل ہوئے ۔ کربلا میں میدان جبگ میں ظہر سے قبل شہید ہوئے ۔
۔۶۴۔ عابس ابن شبیب الشاکری
آپ قبیلہ بنو شاکر کی یادگار تھے اور یہ وہی قبیلہ ہے جس کی بابت امیر المومنین علیہ السلام نے جنگ صفین میں فرمایا تھا ” اگر بنو شاکر کے 1000 افراد موجود ہوں تو دینا میں اسلام کے علاہ کوئی اور مذہب نہ ہو۔ ” یوم عاشور پر جب میدان میں آ کر مبازر طلب کیا تو کوئی بھی سامنے نہیں آیا ۔ بالاخر آپ پر اجتماعی پتھراو کیا گیا اور سب نے مل کر حملہ کیا جس سے آپ شہید ہوئے ۔
۔۶۵۔ شوذب ابن عبداللہ الہمدانی
آپ عابس الشاکری کے غلام تھے اور بلا کے جری تھے ۔ آپ بھی اپنے مالک کے ہمراہ میدا کربلا میں شہید ہوئے ۔
۔۶۶۔ عبد الرحمان بن عروۃ الغفاری
آپ کوفہ کے رہائشی تھے اور میدان کربلا میں امام علیہ السلام کے نصرت اور تائید میں شہید ہوئے ۔
۔۶۷۔ حرث ابن امرو القیس الکندی
آپ سبھ عاشور لشکر ابن سعد سے نکل کر امام علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہوئے اور جام شہادت نوش کیا ۔
۔۶۸۔ یزید ابن زیاد الہدلی
آپ کی کنیت ابو الشعشا تھی ۔آپ اپنی قوم کے سردار اور فنون جنگ میں طاق تھے ۔آپ میدان کربلا میں بے جگری سے لڑے تو دشمنوں نے آپ کے گھوڑے کے پیر کاٹ دیے اس وقت آپ کے ترکش میں 100 تیر تھے آپ نے ہر تیر سے ایک فرد کا واصل نار کیا ۔ تیر ختم ہونے کے بعد تلوار بازی کی اور نیزہ لگنے سے گھائل ہوئے ۔ اور درجہ شہادت حاصل کیا ۔
۔۶۹۔ ابو عمرہ النہثلی
آپ میدان کربلا کی انفرادی جنگ میں شہید ہوئے آپ کا قاتل عامر بن نہشل تھا
۔ ۷۰۔ جندب بن حجیر الخولانی الکندی
آپ انصار امیر المومنین علیہ السلام تھے اور کوفی سے نکل کر لشکر حر کی آمد سے پیشتر امام علیہ السلام کی کدمت میں حاضر ہوئے ۔ یوم عاشورہ کو حمایت فرزند رسول علیہ السلام میں جنت کے حقدار ہوئے ۔
۔۷۱۔ سلامن بن مضارب الانماری
آپ زہیر ابن قین کے چچا زاد بھائی تھے ۔ مکہ سے امام علیہ السلام کے ہمرکاب ہوئے اور یوم عاشور بعد نماز ظہر شہادت سے سرفراز ہوئے ۔
۔۷۲۔ مالک ابن عبداللہ الجابری
آپ یوم عاشورہ سے چند یوم پہلے امام علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ۔ آپ کی شہادت پر امام نے وہ ایک جملہ کہا جو تاریخ میں محفوظ ہے “ اے میرے وفادار بہادروں ۔ تم میرے نانا کی خدمت میں چلو میں تمہارے پیچھے آ رہا ہوں “
شہدائے اٹھارہ بنی ہاشم علیہ السلام اجمعین ( مفصل احوال )
کارزار کربلا میں امام علیہ السلام کے اصحاب با صفاء اور موالیان باوفا کی شہادت کے بعد امام علیہ السلام کے اعزاء و اقرباء ، برادران ، اور اولاد نے راہ اسلام میں عظیم اور لازوال قربانیاں دیں اور اسلام کو سدا بہار بنا دیا ۔
اسلام کے دامن میں بس اس کے سواء کیا ہے
ایک ضرب ید اللہ ایک سجدہ شبیری
۔۱۔ عبداللہ ابن مسلم
آپ حضرم مسلم علیہ السلام کے فرزند اور امام علیہ السلام کے بھانجے اور امیر المومین علیہ السلام کے نواسے تھے ۔آپ کی والدہ ماجدہ رقیہ بنت علی علیہ السلام اور نانی کا نام صہبا بنت عباد ۔ آپ کی والدہ قبیلہ بنی ثعلبتہ کی فرد اور کنیت ام حبیبۃ تھی۔آپ آٹحارہ بنی ہاشم کے سب سے پہلے شہید ہیں اپ نے 90 دشمنوں کو واصل نار کیا اور دوران جنگ عمر ابن صبیح صیدادی نے آپ کی پیشانی پر تیر مارا جس کو روکتے ہوئے وہ آپ کا ہاتھ پیشانی میں پیوست ہو گیا ۔ اس نے دوسرا تیر آپ سے سینے پر ماری جس سے آپ نے شہادت پائی ۔
۔۲۔ محمد ابن مسلم
آپ بھائی کو زخمی دیکھ کر امام علیہ السلام سے ازن شہادت لے لر میدان میں گئے اور گمسان کی جنگ کی آپ کا ابوجرہم ازدی اور لقیط ابن ایاش جہمی نے شہید کیا ۔
۔۳۔ جعفر ابن عقیل
آپ عقیل ابن ابی طالب کے فرزند اور آپ کی والدہ “حوصا” بنت عمرہ بن عام بن حسان بن کعب بن عبد بن ابی بکر ابن کلاب عامری اور آپ کی نانی ریطہ بنت عبداللہ بن ابی بکر تھیں۔ میدان جنگ میں 15 دشمنوں کو قتل کر کے بشر ابن خوط کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔۔
۔۴۔ عبد الرحمان بن عقیل
آپ عقیل ابن ابی طالب کے فرزند اورمیدان کربلا میں 17 دشمنوں کو قتل کر کے عثمان بن خالد ابن اثیم اور بشر بن خوط کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔
۔۵۔ عبداللہ ابن عقیل
آپ عقیل ابن ابی طالب کے فرزند اورمیدان کربلا میں بہت سے دشمنوں کو قتل کر کے عثمان بن خالد کے ہاتھون شہید ہوئے
۔۶۔ موسی ابن عقیل
آپ عقیل ابن ابی طالب کے فرزند اورمیدان کربلا میں 70 دشمنون کو قتل کر کے سرور کائنات کی بارگاہ میں پہنچے ۔
۔۷۔ عون بن عبداللہ بن جعفر طیار
آب جناب عبداللہ کے فرزند اور حضرت جعفر طیار کے پوتے تھے ۔ امیر المومنین علیہ السلام کے نواسے آپ کی والدہ زینب کبری علیہ السلام اور نانی جناب خاتون جنت حضرت فاطمہ سلام اللہ تھیں جناب عبداللہ ابن جعفر علالت کی وجہ سے اپنے بیٹوں کو امام علیہ السلام کی بارگاہ میں دے دیا تھا اور امام علیہ السلام پر جانثاری کی ہدایت کر کے چلے گئے تھے۔ جناب عون کے رجز کے اشعار نے اشقیا کے دل دہلا دِے تھے ۔ آپ نے 30 سوار ، 18 پیادے قتل کئے اور عبدا بن قطنہ نبھانی کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔
۔۸۔ محمد ابن عبداللہ بن جعفر طیار
آپ جناب عون کے بھائی اور اور 10 دشمنوں کا قتل کرنے کے بعد عامر بن نہشل کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔
۔۹۔ عبداللہ الاکبر عرف عمرو بن الحسن ابن علی ابن ابی طالب
آپ امام حسن علیہ السلام کے بڑے بیٹے اور آپ کی کنیت ابو بکر تھی آپ کی والدہ گرامی کا نام جناب “رملہ ” اور کچھ روایات کے مطابق ” نفیلہ” تھا۔ میدان کربلا میں 80 آدمیوں کو قتل کرنے کےبعد عبداللہ بن عقبی غنوی کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔
۔۱۰۔ قاسم بن حسن ابن علی ابن ابی طالب
آپ امام حسن علیہ السلام اور جناب رملہ کے فرزند تھے آپ نہایت جری تھے ارزق شامی جیسے نامی گرامی پہلوان کو میدان کربلا میں قتل کیا ۔ اور جب دشمنوں سے زیر نہ ہوئے تو سب نے اچانک چاروں طرف سے گھیر کر حملہ کیا اور عمیر بن نفیل ازدی کے وار سے گھائل ہوئے ۔ گھوڑے سے گرنے کے بعد زندہ ہی پامال سم اسپاں ہو گئے ۔
۔۱۱۔ عبداللہ ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب
آپ مام حسن علیہ السلام کے فرزند اور والدہ بنت شلیل بن عبداللہ بجلی تھیں آپ کے نانا صحابی رسول تھے کربلا میں سب بلوغ تک نہ پہنچے تھے مگر شجاعت بے مثال کے مالک تھے 14 دشمنوں کو قتل کر کے بدست ہانی ابن شیت خضرمی شہیند ہوئے ۔
۔۱۲۔ عبداللہ بن علی ابن ابی طالب
آپ علمدار کربلا کے حقیقی بھائی اور فرزند جناب ام البنین اور امیر المومنین علیہ السلام تھے ۔کربلا میں ہانی بن ثبیث حضرمی کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔
۔۱۳۔ عثمان بن علی ابن ابی طالب
آپ بھی علمدار کربلا کے بھائی تھے آپ کی عمر 23 برس تھی اور میدان کربلا میں خولی شقی کے تیر سے گھائل ہوکر زخمی ہوئے اور قبیلہ ابان بن وارم کے ایک شخص کی تلوار سے شہید ہوئے ۔
۔۱۴۔ جعفر بن علی ابن ابی طالب
آپ کی عمر 21 برس اور میدان کربلا میں ہانی ابن ثبیث کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔
۱۵۔ علمدار کربلا عباس بن علی ابن ابی طالب ۔
ان بہادران بنی ہاشم کی شہادت کے بعد علمدار کربلا نے ازن شہادت طلب کیا مگر امام علیہ السلام نے ازن جنگ نہ دیا اور فرمایا کہ اطفال کے لیے پانی کا بندوبست کرو آپ مشکیزہ اور علم لے کے میدان میں گئے ، جنگ کی اجازت نہ ملنےکے باوجود آپ کی ہیبت سے لشکر میں ہلچل مچ گئی تھی ۔ آپ نے پانی پر قبضہ کیا مشک بھری اور واپس ازن خیام ہوئے ۔ جب لشکر نے دیکھا کہ آپ بغیر تلوار کے ہیں تو آپ پر حملہ کیا اور پانی کی مشک بچاتے ہوئے آپ کا داہنا ہاتھ زیند بن ورقا کی تلوار سے قلم ہوا ۔ بایاں ہاتھ حکیم ابن طفیل نے قلم کیا مشکیزے پر تیر لگنے سے سارا پانی بہہ گیا اور ایک تیر آپ کی سینے پر لگا۔آپ کی شہادت پر امام علیہ السلام نے فرمایا ” ہائے میری کمر ٹوٹ گئی” آپ کو کمال حسن کی وجہ سے قمر بنی ہاشم بھی کہا جاتا ہے مشہور القاب ” سقہ ” ، ابو قریہ ہیں شہادت کے وقت آپ کی عمر 34 برس تھی۔
۔۱۶۔ علی اکبر بن الحسین الشہید ابن علی ابن ابی طالب
آپ امام علیہ السلام کے منجھلے بیٹے تھے امیر المومنین علیہ السلام اور جناب خاتون جنت سلام اللہ علیھا کے پوتے تھے ۔ اپ کی والدہ کا نام ” ام لیلی ” تھا۔آپ صورت اور سیرت میں پیغمبر اسلام کے مشابہ تھے آپ کا نام علی ابن حسین ۔ کنیت ابو الحسن اور لقب اکبر تھا۔ آپ نے میدان کربلا میں120 دشمنوں کو قتل کیا اور منقذ ابن مرہ عبدی نے آپ کے گلوئے مبارک پر تیر مار اور ابن نمیر ناے سینہ اقدس پر نیزے کا وار کیا ۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر 18 برس تھی ۔
۔۱۷۔ محمد بن ابی سعید بن عقیل
آپ جناب عقیل کے فرزند اور نہایت کم سن تھے جناب علی اکبر کی شہادت کے بعد آپ چوب خیمہ لے کر باہر نکلے اور امام علیہ السلام کی طرف رخ کیا ابھی آپ امام علیہ السلام کے نزدیک بھی نہیں پہنچے تھے کہ نفیظ ابن یاسی نے آپ پر تلوار کی ضرب لگائی اور آپ شہید ہو گئے ۔
۔۱۸۔ علی اصغر ابن الحسین الشہید ابن علی ابن ابی طالب
آپ امام علیہ السلام کے کمسن ترین فرزند اور ۱۰ رجب سن 60 کو پیدا ہوئے آپ کی والدہ کا نام رباب بنت امرہ القیس بن عدی بن اوس تھا۔ یوم عاشور کو جب امام علیہ السلام نے آواز استغاثہ بلند کی تو آپ نے خود کو جھولے سے گرا دیا ۔ امام علیہ السلام جب بے شیر شہزادے کہ لے کر میدان میں گئے تو لشکر میں ہلچل مچ گئی اور لشکر بے قابو ہونے لگا اور ابن سعد نے حرملہ کو حکم دیا کاے تیر سہہ شعبہ استعمال کرو۔ اس لعین نے گلوئے صغیر کو تاکا اور تیر کمان سے چھوڑ دیا تیر کا لگنا تھا کہ شش ماہہ امام علیہ السلام کے ہاتھوں پر منقلب ہو گئے ۔ امام علیہ السلام نے خون علی اصغر علیہ السلام آسمان کی طرف پھر زمین کی طرف پھینکنا چاہا مگر دونوں نے اس خون نا حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ بالاخر آپ علیہ السلام نے اس لہو کو اپنے چہرہ مبارک پر مل لیا ، اور فرمایا کہ ” اسی حالت میں اپنے نانا کی بارگاہ میں جاوں گا “
انکار آسمان کو ہے راضی زمیں نہیں
اصغر تمہارے خون کا ٹھکانا کہیں نہیں
تاجدار انسانیت سید الشہداء جناب امام حسین علیہ السلام کی شہادت
جب آپ علیہ السلام کا کوئی معین اور مددگار باقی نہ رہا تو آپ خود میدان کارزار میں آئے آپ علیہ السلام کے جسم مبارک پر 1951 زخم آئےاور آپ زمین پر اس طرح تشریف لائے کے آپ علیہ السلام نہ تو زین پر تھے اور نہ زمین پر ۔ نماز عصر کا وقت آ چکا تھ اآپ سجدہ خالق میں گئے تو شمر ملعون نے کند خنجر سے آپ کا سر مبارک جدا کر دیا ۔
یہ واقعہ یہ عظیم قربانیاں 10 محرم سن 61 ہجری بمطابق 10 اکتوبر 680 عیسوی بروز جمعہ اس دنیا میں وقوع ہوا۔ اور دین اسلام کی لازوال تاریخ رقم کر گیا ۔
مجاہد فی سبیل اللہ ایسے کم نظر آئے
قیامت ہو جنہیں اک اک گھڑی شوق شہادت میں

آخر میں دعا گو ہوں کہ پردودگار ہماری اس قلیل سی کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول کرے اور ہم سب پر اپنا رحم اور کرم نازل کرے اور ہم کو راہ حق پر استوار رکھے۔

القاب مولی المؤمنین علی کرماللہ وجھہ 

ألقاب أمير المؤمنين “ع” #على_أميرك_علي_شارك_المنشور_واكتب_يا_علي 

القــــاب الامــام ع ـــلي (عليه السلام)

السلام عليك سيدي ومولاي علي امير المؤمنين وقائد الغر المحجلين ..

( 1 ) علي سيد المسلمين

( 2 ) علي إمام المتقين

( 3 ) علي قائد الغر المحجلين

( 4 ) علي يعسوب المؤمنين

( 5 ) علي ولي المتقين

( 6 ) علي يعسوب الدين

( 7 ) علي أمير المؤمنين ” أمير كل مؤمن ”

( 8 ) علي سيد ولد آدم ” ما خلا النبيين ”

( 9 ) علي خاتم الوصيين

( 10 ) علي أول من يرى رسول الله يوم القيامة

( 11 ) علي أول من يصافح النبي يوم القيامة

( 12 ) علي الصديق الأكبر

( 13 ) علي فاروق هذه الأمة

( 14 ) علي الفاروق بين الحق والباطل

( 15 ) علي أول من صدق رسول الله ” آمن رسول الله ”

( 16 ) علي أول من آمن بالله

( 17 ) علي يعسوب المسلمين

( 18 ) علي خليفة رسول الله ” في أمته من بعده ”

( 19 ) علي يعسوب قريش

( 20 ) علي خير من تركه رسول الله

( 21 ) علي سيد العرب

( 22 ) علي سيد في الدنيا والآخرة

( 23 ) علي سيد المؤمنين

( 24 ) علي وزير رسول الله

( 25 ) علي صاحب رسول الله

( 26 ) علي أول من وحد الله مع رسوله

( 27 ) علي منجز وعد رسول الله

( 28 ) علي موضع سر رسول الله

( 29 ) علي خير من تركه ( أخلفه ) رسول الله من بعده

( 30 ) علي قاضي دين رسول الله

( 31 ) علي أخو رسول الله ” في الدنيا والآخرة ”

( 32 ) علي عيبة علم رسول الله

( 33 ) علي باب رسول الله الذي يؤتي منه

( 34 ) علي وصي رسول الله

( 35 ) علي القائم بأمر رسول الله

( 36 ) علي الإمام على أمة رسول الله ” إمام الأمة ”

( 37 ) علي خليفة الله في أرضه ” بعد رسوله ”

( 38 ) علي إمام خلق الله ” البرية ”

( 39 ) علي مولى البرية

( 40 ) علي وارث علم رسول الله

( 41 ) علي أبو ذرية النبي ” ولد النبي ”

( 42 ) علي عضد ” عاضد رسول الله ”

( 43 ) علي أمين رسول الله على وحيه

( 44 ) علي مولى من كان رسول الله مولاه

( 45 ) علي صاحب لواء رسول الله في المحشر

( 46 ) علي قاضي عداة رسول الله

( 47 ) علي الذائد عن حوض رسول الله

( 48 ) علي أبو هذه الأمة

( 49 ) علي صاحب حوض رسول الله

( 50 ) علي قاتل الناكثين والقاسطين والمارقين

( 51 ) علي ولي المؤمنين ” كل مؤمن ” بعد رسول الله

( 52 ) علي صفي رسول الله

( 53 ) علي حبيب رسول الله

( 54 ) علي سيد الأوصياء ” الوصيين ”

( 55 ) علي أفضل الوصيين

( 56 ) علي خاتم الأوصياء

( 57 ) علي خير الأوصياء ” الوصيين ”

( 58 ) علي إمام الأتقياء

( 59 ) علي وارث النبي

( 60 ) علي سيف الله

( 61 ) علي الهادي

( 62 ) علي أبو الأئمة الطاهرين

( 63 ) علي أقدم الناس سلما

( 64 ) علي وزير رسول الله ” في السماء والأرض ”

( 65 ) علي أحب الأوصياء إلى الله

( 66 ) علي أعظم ” أشرف ” الناس حسبا

( 67 ) علي أكرم الناس منصبا

( 68 ) علي أرحم الناس بالرعية

( 69 ) علي أعدل الناس بالسوية ” في الرعية ”

( 70 ) علي أبصر الناس بالقضية

( 71 ) علي ولي الله

( 72 ) علي ولي رسول الله ” في الدنيا والآخرة ”

( 73 ) علي ولي المؤمنين بعد رسول الله

( 74 ) علي المؤدي عن رسول الله

( 75 ) علي إمام كل مؤمن ومؤمنة

( 76 ) علي ولي كل مؤمن ومؤمنة

( 77 ) علي الآخذ بسنة رسول الله

( 78 ) علي الذاب عن ملة رسول الله

( 79 ) علي أولى الناس بعد رسول الله

( 80 ) علي أول الناس ” المؤمنين ” إيمانا

( 81 ) علي أوفى الناس ” المؤمنين ” بعهد الله

( 82 ) علي أقوم الناس بعهد الله

( 83 ) علي أقسم الناس ” المؤمنين ” بالسوية

( 84 ) علي أرأف الناس ” المؤمنين ” بالرعية

( 85 ) علي أعدل الناس في الرعية

( 85 ) علي أعدل الناس في الرعية

( 86 ) علي أمين الناس علي سره

( 87 ) علي أعظم الناس عند الله مزية

( 88 ) علي سيد الأولين والآخرين ما خلا النبيين

( 89 ) علي قبلة العارفين

( 90 ) علي أول المسلمين ( الأصحاب ) إسلاما

( 91 ) علي أكثر الأمة علما

( 93 ) علي أعظم الأمة ” أفضل الأمة ” ” أوفر الأمة ” حلما ” أحلم الناس ”

( 94 ) علي أحسن الناس خلقا

( 95 ) علي أعلم الأمة بالله

( 96 ) علي أول الناس ورودا على الحوض

( 97 ) علي آخر الناس عهدا برسول الله

( 98 ) علي أول الناس لقيا برسول الله

( 99 ) علي أشجع الناس قلبا

( 100 ) علي أسخى ” أسمح ” الناس كفا

( 101 ) علي قسيم الجنة والنار

( 102 ) علي أصح الناس دينا

( 103 ) علي أفضل الناس ينا

( 104 ) علي أكمل الناس حلما

( 105 ) علي راية الهدى

( 106 ) علي منار الإيمان

( 107 ) علي إمام أولياء الله

( 108 ) علي نور جميع من أطاع الله

( 109 ) علي صاحب راية رسول الله يوم القيامة .

( 110 ) علي أمين رسول الله ” ثقة رسول الله ” على مفاتيح خزائن رحمة الله

( 111 ) علي كبير الناس

( 112 ) علي نور أولياء الله

( 113 ) علي إمام من أطاع الله

( 114 ) علي أمين رسول الله في القيامة

( 115 ) علي صاحب حوض رسول الله

( 116 ) ؟ ؟ ؟

( 117 ) علي مستودع مواريث الأنبياء

( 118 ) علي أمين الله على أرضه

( 119 ) علي حجة الله على بريته

( 120 ) علي ركن الإيمان

( 121 ) علي عمود الإسلام

( 122 ) علي مصباح الدجى

( 123 ) علي منار الهدى

( 124 ) علي العلم المرفوع لأهل الدنيا

( 125 ) علي الطريق الواضح

( 126 ) علي الصراط المستقيم

( 127 ) علي الكلمة التي ألزمها الله المتقين

( 128 ) علي أعلم المؤمنين بأيام الله

( 129 ) علي أعظم المؤمنين رزية

( 130 ) علي غاسل رسول الله

( 131 ) علي دافن رسول الله

( 132 ) علي المتقدم إلى كل شديدة وكريهة

( 133 ) علي أقوم الناس بأمر الله

( 134 ) علي الرؤوف بالناس

( 135 ) علي الأواه

( 136 ) علي الحليم

( 137 ) علي أفضل الناس منزلة

( 138 ) على أقرب الناس قرابة

( 139 ) علي أعظم الناس غنى

( 140 ) علي حجة رسول الله

( 141 ) علي باب الله

( 142 ) علي خليل الله

( 143 ) علي خليل رسول الله

( 144 ) علي سيف رسول الله

( 145 ) علي الطريق إلى الله

( 146 ) علي النبأ العظيم

( 147 ) علي المثل الأعلى

( 148 ) علي إمام المسلمين

( 149 ) علي سيد الصديقين

( 150 ) علي قائد المسلمين إلى الجنة

( 151 ) علي أتقي الناس

( 152 ) علي أفضل الناس ” هذه الأمة ”

( 153 ) علي أعلم الناس

( 154 ) علي صالح المؤمنين

( 155 ) علي عالم الناس

( 156 ) علي الدال

( 157 ) علي العابد

( 158 ) علي الهادي

( 159 ) علي المهدي

( 160 ) علي الفتي

( 161 ) علي المجتبى للإمامة

( 162 ) علي صاحب رسول الله في المقام المحمود

( 163 ) علي الملك في الآخرة

( 164 ) علي صاحب سر رسول الله

( 165 ) علي الأمين في أهل الأرض

( 166 ) علي الأمين في أهل السماء

( 167 ) علي محيي سنة رسول الله

( 168 ) علي ممسوس في ذات الله

( 169 ) علي أكمل الأمة يقينا

( 170 ) علي مقيم الحجة

( 171 ) علي حجة النبي علي أمته يوم القيامة

( 172 ) علي شيخ المهاجرين والأنصار

( 173 ) علي لحم رسول الله ودمه وشعره

( 174 ) علي أبو السبطين

( 175 ) علي أبو الريحانتين

( 176 ) علي مفرج الكرب عن رسول الله

( 177 ) علي أسد الله في أرضه

( 178 ) علي سيف الله ” على أعدائه ”

( 179 ) علي حبيب الله ( 180 ) علي حامل راية رسول الله

( 181 ) علي صاحب لواء الحمد

( 182) علي أول من يدخل الجنة

( 183 ) علي أول من يقرع باب الجنة

( 184 ) علي رباني هذه الأمة

( 185 ) علي ديان العرب

( 186 ) علي ديان هذه الأمة

( 187 ) علي ذو قرني الجنة

( 188 ) علي عبقري أصحاب رسول الله

( 189 ) علي أمير البررة

( 190 ) علي قاتل الفجرة

( 191 ) علي قاتل الكفرة

( 192 ) علي الأخيشن ” الأخشن ” ” المخشوشن ” ” الأخشى ” في ذات الله .

193 ) علي صهر رسول الله

( 194 ) علي خير البشر

( 195 ) علي خير الناس

( 196 ) علي خير الرجال

( 197 ) علي خير هذه الأمة بعد نبيها

( 198 ) علي خير البرية

( 199 ) علي خير من طلعت عليه الشمس وغربت بعد النبي

( 200 ) علي صاحب رسول الله في الجنة

( 201 ) على أب الأمة

( 203 ) علي أمير آيات القرآن

( 203 ) علي صاحب لواء رسول الله في الدنيا والآخرة

( 204 ) علي إمام البررة

( 205 ) علي رفيق رسول الله في الجنة

( 206 ) علي أحب الخلق إلى الله ورسوله

( 207 ) علي باب العلم

( 208 ) علي أحب الرجال إلى النبي

( 209 ) علي أقرب الناس من رسول الله

( 210 ) علي أجود الناس منزلة

( 211 ) علي أعظم الناس عند الله عناء

( 212 ) علي أعظم الناس على الله

( 213 ) علي قائد الأمة إلى الجنة

( 214 ) علي حجة الله على الناس بعد رسول الله

( 215 ) علي أمين رسول الله

( 216 ) علي الصديق

( 217 ) علي الشاهد

( 218 ) علي أقرب الناس إلى الجنة

( 219 ) علي قائد المؤمنين إلى الجنة

( 220 ) علي المهتدي

( 221 ) علي المهتدي

( 221 ) علي أبو اليتامى والمساكين

( 222 ) علي زوج الأرامل

( 223 ) علي ملجأ كل ضعيف

( 224 ) علي مأمن كل خائف

( 225 ) علي حبل الله المتين

( 226 ) علي العروة الوثقى

( 227 ) علي كلمة التقوى

( 228 ) علي عين الله

( 229 ) علي لسان الله الصادق

( 230 ) علي جنب الله

( 231 ) علي يد الله المبسوطة على عباده بالمغفرة والرحمة

( 232 ) علي باب حطة

( 233 ) علي أول من صدق رسول الله

( 234 ) علي أول من وحد الله

( 235 ) علي باب علم رسول الله

( 236 ) علي باب مدينة العلم

( 237 ) علي أبو العترة الطاهرة الهادية

( 238 ) علي وارث علم النبيين

( 239 ) علي أحكم الناس حكما

( 240 ) علي حجة الله في أرضه بعد النبي

( 241 ) علي أمين رسول الله على حوضه

( 242 ) علي ولي كل مؤمن ومؤمنة ” كل مسلم ومسلمة ”

( 243 ) علي ولي من كان رسول الله وليه
( 244 ) علي خليفة الله على عباده

( 245 ) علي المبلغ من الله ورسوله

( 246 ) علي قاصم عداة رسول الله

( 247 ) علي خدن رسول الله

القاب مولی المؤمنین علی کرماللہ وجھہ 

محمد شفیق حنفی

چند کتابوں کی فہرست مع مصنف ومؤلف ومطبوعات

*چند کتابوں کی فہرست مع مصنف ومؤلف ومطبوعات* —————-قسط3————— المشتہر‛‛ *حسن نوری* ناسک مہارشٹر

+918485880123

—————————————-            

                🌹 *کتاب الفقہ*🌹    

 1۔۔۔تحفۃ الفقہاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علاء الدین سمرقندی متوفی۵۳۹ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دارالکتب العلمیہ بیروت
 2۔۔۔خلاصۃ الفتاوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ طاہر بن عبدالرشید بخاری، متوفی ۵۴۲ ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئٹہ
 3۔۔۔۔بدائع الصنا ئع فی ترتیب الشرائع۔۔۔۔ملک العلماءامام علاءالدین ابو بکربن مسعودکاسانی متوفی ۵۸۷ھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔داراحیاء التراث العربی،بیروت۱۴۲۱ھ 
4۔۔۔الفتاوی الخانیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قاضی حسن بن منصور بن محمود اوزجندی متوفی ۵۹۲ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پشاور 
5۔۔۔ التجنیس و المزید۔۔۔۔۔۔برہان الدین علی بن ابی بکر مرغینانی، متوفی ۵۹۳ ھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔باب المدینہ، کراچی 
6۔۔۔الہدایۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برہان الدین علی بن ابی بکر مَرغینانی متوفی ۵۹۳ھ۔۔۔۔۔۔دار احیاء التراث العربی، بیروت
 7۔۔۔فتح القدیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کمال الدین محمد بن عبد الواحد المعروف بابن ہمام متوفی ۸۶۱ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئٹہ 
8۔۔۔ منیۃ المصلي ۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ سدیدالدین محمد بن محمد کاشغری، متوفی۷۰۵ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ضیاء القرآن، لاہور 
9۔۔۔المدخل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ محمد بن محمد،المشہور ابن الحاج،متوفی۷۳۷ ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دار الکتب العلمیۃ بیروت ،۱۴۱۵ھ 
10۔۔۔شرح الوقایۃ ۔۔۔۔۔۔علامہ صدرالشریعہ عبید اللہ بن مسعود، متوفی ۷۴۷ ھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔باب المدینہ کراچی 
11۔۔۔الفتاوی التاتارخانیۃ ۔۔۔علامہ عالم بن علاء انصاری دہلوی متوفی ۷۸۶ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باب المدینہ کراچی۱۴۱۶ھ 
12۔۔۔الجوہرۃ النیرۃ ۔۔۔۔۔۔۔علامہ ابوبکر بن علی حداد، متوفی ۸۰۰ ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باب المدینہ کراچی 
13۔۔۔الجامع الوجیز(الفتاوی البزازیہ)۔۔۔حافظ الدین محمد بن محمد بن المعروف بابن بزار متوفی ۸۲۷ھ۔۔۔کوئٹہ۱۴۰۳ھ
14۔۔۔فتاوی قاریئ الہدایۃ ۔۔۔علامہ سراج الدین عمر بن علی حنفی، متوفی ۸۲۹ ھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دارالفرقان، بیروت
15۔۔۔ البنایۃ فی شرح الہدایۃ ۔۔۔۔امام بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدینۃ الاولیاء ملتان
16۔۔۔الحلیۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ ابن امیر الحاج، متوفی ۸۷۹ ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مخطوطہ
17۔۔۔درر الحکام شرح غرر الاحکام ۔۔۔علامہ قاضی شہیر ملاّخسرو حنفی، متوفی ۸۸۵ ھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔باب المدینہ کراچی 
18۔۔۔الحاوي للفتاوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔امام جلال الدین عبد الرحمن سیوطی متوفی ۹۱۱ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دار الفکر، بیروت۱۴۲۰ھ 
19۔۔۔فتاوی امام سراج الدین بلقینی۔۔۔امام سراج الدین بلقینی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باب المدینہ کراچی ۱۴۱۶ھ 
20۔۔۔غنیۃ المتملي۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ محمد ابراہیم بن حلبی ، متوفی ۹۵۶ ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سہيل اکیڈمی، لاہور
21۔۔۔البحر الرائق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ زین الدین بن نجیم، متوفی ۹۷۰ ھ ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئٹہ۱۴۲۰ھ

 

22۔۔۔فتاوی زینیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ زین الدین بن نجیم، متوفی ۹۷۰ ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باب المدینہ کراچی
 23۔۔۔المیزان الکبرٰی۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبدالوہاب بن احمد بن علی احمدشعرانی متوفی ۹۷۳ھ۔۔۔۔۔ مصطفی البابی، مصر 
24۔۔۔الفتاوی الحدیثیۃ۔۔۔۔شیخ الاسلام احمدبن محمد بن علی بن حجرہیتمی متوفی ۹۷۴ھ ۔۔۔دار احیاء التراث العربی، بیروت۱۴۱۹ھ

 

25۔۔۔تنویر الأبصار۔۔۔۔۔۔۔علامہ شمس الدین محمد بن عبد اللہ بن احمد تمرتاشی، متوفی ۱۰۰۴ ھ۔۔۔دارالمعرفۃ، بیروت ،۱۴۲۰ھ

 

26۔۔۔ النھر الفائق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ سراج الدین عمر بن ابراہیم، متوفی ۱۰۰۵ ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئٹہ 
27۔۔۔لباب المناسک۔۔۔۔۔۔۔۔۔شیخ رحمۃ اللہ سندی ،متوفی۱۰۱۴ھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باب المدینہ کراچی،۱۴۲۵ھ
28۔۔۔المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط۔۔۔ملا علی بن سلطان قاری ،متوفی۱۰۱۴ھ۔۔۔۔۔۔۔باب المدینہ کراچی،۱۴۲۵ھ 
29۔۔۔حاشیۃ الشلبیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ احمد بن محمد شلبی، متوفی ۱۰۲۱ ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دارالکتب العلمیۃ، بیروت 
30۔۔۔نورالإیضاح و مراقي الفلاح ۔۔۔علامہ حسن بن عمار بن علی شرنبلالی، متوفی ۱۰۶۹ ھ۔۔۔۔۔۔مدینۃ الاولیاء، ملتان 
31۔۔۔نورالایضاح مع حاشیۃ ضوء المصباح ۔۔۔علامہ حسن بن عماربن علی شرنبلالی۱۰۶۹ھ ۔۔۔مکتبہ برکات المدینہ کراچی
 32۔۔۔مجمع الأنہر۔۔۔عبد الرحمن بن محمد بن سلیمان کلیبولی متوفی ۱۰۷۸ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۱۹ھ

 

33۔۔۔الدر المختار۔۔۔۔۔۔محمد بن علی المعروف بعلاء الدین حصکفی متوفی ۱۰۸۸ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دار المعرفہ، بیروت۱۴۲۰ھ 
34۔۔۔حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح ۔۔۔علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل طحطاوی متوفی۱۲۴۱ھ۔۔۔باب المدینہ، کراچی
 35۔۔۔حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار۔۔۔علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل طحطاوی متوفی۱۲۴۱ھ ۔۔۔۔۔۔کوئٹہ

 

36۔۔۔رد المحتار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد امین ابن عابدین شامی متوفی ۱۲۵۲ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دار المعرفہ، بیروت۱۴۲۰ھ

37۔۔۔الفتاوی الھندیۃ ۔۔۔۔۔۔علامہ ہمام مولانا شیخ نظام متوفی۱۱۶۱ھ وجماعۃ من علماء الہند۔۔۔دار الفکر بیروت۱۴۰۳ھ 

————————————-

             *کتب أصول 1
الفقہ*1۔۔۔التوضیح والتلویح۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبید اللہ بن مسعود بن تاج الشریعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باب المدینہ کراچی 
2۔۔۔النامی شرح الحسامی۔۔۔۔۔۔۔مولوی ابو محمد عبد الحق الحقانی بن محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدینۃ الاولیاء ملتان 
3۔۔۔الأشباہ والنظائر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الشیخ زین الدین بن ابراہیم الشہیر بابن نحیم متوفی ۹۷۰ھ۔۔۔دار الکتب العلمیہ، بیروت۱۴۱۹ھ
4۔۔۔نور الأنوار۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ احمد ابن ابی سعید حنفی المعروف بملا جیون متوفی ۱۱۳۰ھ۔۔۔۔۔۔مدینۃ الاولیاء ملتان 
5۔۔۔فواتح الرحموت۔۔۔۔۔۔علامہ عبد العلی محمد بن نظام الدین لکھنوی متوفی ۱۲۲۵ھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔باب المدینہ کراچی

——————————-

           *کتب التصوف*
 1۔۔۔کتاب الزہد۔۔۔۔۔۔۔۔۔امام عبد اللہ بن مبارک مروزی متوفی ۱۸۱ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دار الکتب العلمیہ، بیروت
 2۔۔۔الرسالہ القشیریۃ ۔۔۔۔۔۔امام ابو القاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری متوفی ۴۶۵ھ۔۔۔دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۸ھ 
3۔۔۔ إحیاء علوم الدین۔۔۔۔۔۔۔امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی متوفی ۵۰۵ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دار صادر، بیروت۲۰۰۰ء
 4۔۔۔عوارف المعارف۔۔۔۔۔۔ابو حفص عمر بن محمد سہروردی شافعی متوفی ۶۳۲ھ۔۔۔۔دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۶ھ 
5۔۔۔الفتوحات المکیۃ ۔۔۔۔۔۔شیخ ابو عبداللہ محمد محی الدین ابن عربی متوفی ۶۳۸ھ۔۔۔۔۔۔۔دار الفکر بیروت۱۴۱۴ھ 
6۔۔۔بھجۃ الأسرار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابو الحسن نور الدین علی بن یوسف شطنوفی متوفی ۷۱۳ھ۔۔۔دار الکتب العلمیہ، بیروت۱۴۲۳ھ

 

7۔۔۔الطبقات الکبری ۔۔۔۔۔۔عبد الوہاب بن احمد بن علی احمدشعرانی متوفی ۹۷۳ھ۔۔۔۔۔۔دار الفکر، بیروت۱۴۱۸ھ 

8۔۔۔ سبع سنابل۔۔۔۔۔۔۔۔۔میر عبد الواحد بلگرامی متوفی۱۰۱۷ھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مکتبہ قادریہ لاہور ۱۴۰۲ھ 
9۔۔۔مکتوبات إمام ربانی۔۔۔۔۔۔مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی متوفی ۱۰۳۴ھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مکتبۃالقدوس کوئٹہ 
10۔۔۔الحدیقۃ الندیۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عارف باللہ سیدی عبد الغنی نابلسی حنفی متوفی۱۱۴۱ھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پشاور

 

11۔۔۔البریقۃ المحمودیۃ علی الطریقۃ المحمدیۃ ۔۔۔ابو سعید محمد بن مصطفی نقشبندی حنفی متوفی ۱۱۷۶ھ۔۔۔۔بیروت 
12۔۔۔جامع کرامات الأولیاء۔۔۔۔۔۔امام یوسف بن اسماعیل نبہانی متوفی ۱۳۵۰ ان لاجواب کتابوں کا مطا لعہ کریں*

40 حديثا في فضائل سيدة نساء أهل الجنة وسيدة نساء العالمين سيدتي ومولاتي وأمي الزهراء البتول فاطمة بضعة سيدنا الرسول عليهم أكمل الصلاة وأتم السلام 

بسم الله الرحمن الرحيم

1- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (إذا كانَ يَوْمُ القيامَةِ نادى مُنادٍ: يا أَهْلَ الجَمْعِ غُضُّوا أَبْصارَكُمْ حَتى تَمُرَّ فاطِمَة)(1).

2- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (كُنْتُ إذا اشْتَقْتُ إِلى رائِحَةِ الجنَّةِ شَمَمْتُ رَقَبَةَ فاطِمَة)(2).

3- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (حَسْبُك مِنْ نساءِ العالَميَن أَرْبَع: مَرْيمَ وَآسيَة وَخَديجَة وَفاطِمَة)(3).

4- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (يا عَلِي هذا جبريلُ يُخْبِرنِي أَنَّ اللّهَ زَوَّجَك فاطِمَة)(4).

5- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (ما رَضِيْتُ حَتّى رَضِيَتْ فاطِمَة)(5).

6- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (يا عَلِيّ إِنَّ اللّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَكَ فاطِمَة)(6).

7- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (إِنّ اللّهَ زَوَّجَ عَليّاً مِنْ فاطِمَة)(7).

8- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (كُلُّ بَنِي أُمّ يَنْتَمونَ إِلى عُصْبَةٍ، إِلاّ وُلدَ فاطِمَة)(8).

9. قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (كُلِّ بَنِي أُنثى عصْبَتُهم لأَبيهِمْ ماخَلا وُلْد فاطِمَة)(9).

10- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (أَحَبُّ أَهْلِي إِليَّ فاطِمَة)(10).

11- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (خَيْرُ نِساءِ العالَمين أَرْبَع: مَرْيَم وَآسية وَخَدِيجَة وَفاطِمَة)(11).

12- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (سيّدَةُ نِساءِ أَهْلِ الجَنَّةِ فاطِمَة)(12).

13- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (إذا إشْتَقْتُ إلى ثِمارِ الجنَّةِ قَبَّلتُ فاطِمَة)(13).

14- قال رســـول اللّه (صلى الله عليه وآله): (كَمُلَ مِنَ الرِّجال كَثِيرُ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النساءِ إِلاّ أَرْبَع: مَرْيـــم وَآسِيَة وَخَديجـــَة وَفاطِمـــَة)(14).

15- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الجَنَّةَ: عَليٌّ وَفاطِمَة)(15).

16- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (أُنْزِلَتْ آيَةُ التطْهِيرِ فِيْ خَمْسَةٍ فِيَّ، وَفِيْ عَليٍّ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَفاطِمَة)(16).

17- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (أَفْضَلُ نِساءِ أَهْل الجَنَّةِ: مَرْيَمُ وَآسيةُ وَخَديجَةُ وَفاطِمَة)(17).

18- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (أَوَّلُ مَنْ دَخَلَ الجَنَّةَ فاطِمَة)(18).

19- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (المَهْدِيِ مِنْ عِتْرَتي مِنْ وُلدِ فاطِمَة)(19).

20- قال رســـول اللّه (صلى الله عليه وآله): (إنّ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ فَطـــَمَ ابْنَتِي فاطِمَـــة وَوُلدَهـــا وَمَنْ أَحَبًّهُمْ مِنَ النّارِ فَلِذلِكَ سُمّيَتْ فاطِمَة)(20).

21- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة أَنْتِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتي لُحُوقاً بِي)(21).

22- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة بَضْعَةٌ مِنّي، يُريبُنِي ما رابَها، وَيُؤذِيني ما آذاهَا)(22).

23- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة بَضْعَةٌ مِنّي يَسُرُّنِي ما يَسُرُّها)(23).

24- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة سِيِّدةُ نِساءِ أَهْلِ الجَنِّة)(24).

25- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة بَضْعَةُ مِنّي فَمَنْ أَغْضَبَها أَغْضَبَنِي)(25).

26- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة خُلِقَتْ حورِيَّةٌ فِيْ صورة إنسيّة)(26).

27- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة حَوْراءُ آدَميّةَ لَم تَحضْ وَلَمْ تَطْمِث)(27).

28- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة بَضْعَةٌ مِنّي يُؤْذيِني ما آذاها وَيَنَصُبَني ما أنَصَبَها)(28).

29- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة بَضْعَةُ مِنّي يُغْضِبُني ما يُغْضِبُها وَيَبْسُطُني ما يَبْسَطُها)(29).

30- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة أَحَبُّ إِليَّ مِنْكَ يا عَلِيّ وَأَنْتَ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْها)(30).

31- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة بَضْعَةٌ مِنّي وَهِيَ قَلْبِيْ وَهِيَ روُحِي التي بَيْنَ جَنْبِيّ)(31).

32- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة سيِّدَةُ نِساءِ أُمَّتِي)(32).

33- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة شُجْنَةٌ مِنّي يَبْسُطُنِي ما يَبْسُطُها وَيَقْبِضُنِي ما يَقْبُضُها)(33).

34- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة بَضْعَةٌ مِنّي يُؤلِمُها ما يُؤْلِمُنِي وَيَسَرُّنِي ما يَسُرُّها)(34).

35- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة بَضْعَةٌ مِنّي مَنْ آْذاهَا فَقَدْ آذانِي)(35).

36- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة بَهْجَةُ قَلْبِي وَابْناها ثَمْرَةُ فُؤادِي)(36).

37- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة لَيْسَتْ كَنِساءِ الآدَميّين)(37).

38- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة مُضْغَةٌ مِنّي يَقْبِضُني ما قَبَضَها وَيَبْسُطُني ما بَسَطَها)(38).

39- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة إِنّ اللّهَ يَغْضِبُ لِغَضَبَكِ)(39).

40- قال رسول اللّه (صلى الله عليه وآله): (فاطِمَة إِنّ اللّهَ غَيْرُ مُعَذِّبِكِ وَلا أَحَدٍ مِنْ وُلْدِكِ)(40). 

مصادر 40 حديثاً في فضل فاطمة (عليها السلام)

1- إسعاف الراغبين بذيل نور الأبصار، للشيخ محمود بن علي الصّبان. دار الفكر – دمشق.

2- أُسد الغابة، لعز الدين أبي الحسن علي بن الأثير. دار إحياء التراث العربي – بيروت.

3- البداية والنهاية، لأبي الفداء اسماعيل بن كثير الدمشقي. دار المعارف – بيروت.

4- الإصابة في تمييز الصحابة، وفي هامشه الاستيعاب لشهاب الدين ابن حجر العسقلاني. مؤسسة الرسالة ـ بيروت.

5- تذكرة الخواص لسبط الجوزي. مؤسسة أهل البيت (عليهم السلام) – بيروت.

6- الجامع الصغير من حديث البشير النذير، لجلال الدين السيوطي. تحقيق عبد اللّه محمد الدرويش – دمشق.

7- الجوهرة في نسب عليٍّ وآله، لمحمد بن أبي بكر التلمساني. تحقيق محمد التونجي مكتبة النوري – دمشق.

8- حلية الأولياء، لأبي نعيم الأصفهاني دار الكتب العلمية – بيروت.

9- خصائص أمير المؤمنين علي بن أبي طالب …، لأبي عبد الرحمن أحمد بن شعيب النسائي. دار الكتاب العربي – بيروت.

10- ذخائر العقبى في مناقب ذوي القربى، لمحب الدين الطبري. مؤسسة الوفاء – بيروت.

11- ربيع الأبرار، لمحمود بن عمر الزمخشري. تحقيق الدكتور سليم النعيمي دار الذخائر للمطبوعات.

12- سير أعلام النبلاء، لشمس الدين الذهبي. تحقيق شعيب أرناؤوط. مؤسسة الرسالة- بيروت.

13- السنن الكبرى، وفي هامشه الجوهر النقي، لأبي بكر البيهقي دار المعرفة – بيروت.

14- سنن الترمذي، تحقيق ناصر الدين الألياني – مكتب التربية العربي لدول الخليج.

15- صحيح البخاري، لمحمد بن اسماعيل البخاري. تحقيق الدكتور مصطفى البغا دار العلوم الإنسانية – دمشق.

16- صحيح مسلم، لأبي الحسين مسلم بن الحجاج النيسابوري. مؤسسة عز الدين – بيروت.

17- الصواعق المحرقة، لأحمد بن حجر الهيتمي المكّي. تحقيق عبد الوهاب اللطيف مكتبة القاهرة ت مصر.

18- عقد الدرر في أخبار المنتظر، ليوسف بن يحيى المقدسي الشافعي. تحقيق عبد الفتاح محمد الحلو – مكتبة عالم الفكر – القاهرة.

19- كنز العمّال في سنن الأقوال والأفعال، لعلاء الدين علي المتقي الهندي. دائرة المعارف العثمانية بحيدر آباد – الهند.

20- مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، لنور الدين علي بن أبي بكر الهيثمي. دار الكتاب العربي – بيروت.

21- كشف الخفاء ومزيل الإلباس، للشيخ إسماعيل العجلوني. تحقيق أحمد القلاّش مؤسسة الرسالة.

22- مصابيح السنة، لأبي محمد الحسين الفرّاء البغوي. تحقيق يوسف عبد الرحمن المرعشلي دار المعرفة – بيروت.

23- مناقب الإمام علي …، للموفق بن أحمد الخوارزمي. تحقيق الشيخ مالك المحمودي مؤسسة النشر الإسلامي.

24- مناقب الإمام علي…، لأبي الحسن علي بن محمد الشافعي الشهير بابن المغازلي من منشورات المكتبة الإسلامية.

25- مناقب أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، من الرياض النضرة لمحب الدين الطبري. تحقيق عبد المحسن عبد اللّه السراوي دار ذو الفقار – بيروت.

26- معرفة ما يجب لآل البيت النبوي من الحق على من عداهم، لتقي الدين المقريزي. تحقيق عبد المحسن عبد اللّه السراوي منشورات السراوي – دمشق.

27- المستدرك على الصحيحين، لأبي عبد اللّه بن الحكم النيسابوري. دار الكتب العلمية – بيروت.

28- منتخب كنز العمّال بهامش مسند أحمد بن حنبل، دار صادر – بيروت.

29- نور الأبصار وفي هامشه إسعاف الراغبين، لمؤمن بن حسن الشبليخي. دار الفكر – دمشق.

30- ينابيع المودّة لسليمان بن إبراهيم القندوزي الحنفي، تحقيق سيد علي جمال أشرف.

الهوامش
1 – كنز العمّال ج 13 ص 91 و 93/ منتخب كنز العمّال بهامش المسند ج 5 ص 96/ الصواعق المحرقة ص 190/ أسد الغابة ج 5 ص 523/ تذكرة الخواص ص 279/ ذخائر العقبى ص 48/ مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 356/ نور الأبصار ص 51 و 52/ ينابيع المودّة ج 2 باب 56 ص 136.

2 – منتخب كنز العمّال ج 5 ص 97/ نور الأبصار ص 51/ مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 360.

3 – مستدرك الصحيحين ج 3 باب مناقب فاطِمَة ص 171/ سير أعلام النبلاء ج 2 ص 126/ البداية والنهاية ج 2 ص 59/ مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 363.

4 – مناقب الإمام علي من الرياض النضرة: ص 141.

5 – مناقب الإمام علي لابن المغازلي: ص 342.

6 – الصواعق المحرقة باب 11 ص 142/ ذخائر العقبى ص 30 و 31/ تذكرة الخواص ص 276/ مناقب الإمام علي من الرياض النضرة ص141/ نور الأبصار ص53.

7 – الصواعق المحرقة ص 173.

8 – الصواعق المحرقة ص 156 و 187/ قريب من لفظه في مستدرك الصحيحين ج 3 ص 179/ كنز العمّال ج13 ص101/إسعاف

ایمان ابو طالب: مخالفین کے دلائل کا تجزیہ

ناصبیوں کا ایک بڑا ہدف حضرت ابو طالبتھے اور انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ کسی طرح انہیں کافر ثابت کریں۔آئیے ان روایات کے تضادات کو دیکھیں تاکہ حق آشکار ہو سکے۔ ان شاء اللہ

حضرت سعید ابن مسیب کی روایت:

سب سے پہلے مخالفین جناب ابو طالب کا (معاذ اللہ) کفر ثابت کرنے کے لیے یہ روایت استعمال کرتے ہیں:

صحیح بخاری، کتاب التفسیر
زہری نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ ابو طالب جب قریب الموت ہوئے تو رسول ﷲصلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے جب کہ ابوجہل اور عبداللہ بن امیّہ وہاں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا اے چچا کلمہ طیبہ لا الہٰ الا اﷲ پڑ ھ لیں تاکہ میں اس کے ذریعے آپ کا دفاع کروں گا۔ ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا: اے ابوطالب ! کیا عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟ وہ دونوں مسلسل ابوطالب سے یہی بات کہتے رہے ، یہاں تک کہ ابوطالب نے جو آخری بات انہیں کہی وہ یہ تھی کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ جب تک مجھے منع نہ کردیا گیا میں آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا۔ چنانچہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
(القرآن 9:113)نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ایمان والوں کی شان کے لائق نہیں کہ مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہوں اس کے بعد کہ ان کے لئے واضح ہو چکا کہ وہ (مشرکین) اہلِ جہنم ہیں
اور پھر خاص یہ آیت ابو طالب کے لیے نازل ہوئی ۔
(القرآن 28:56) بلاشُبہ تم (اے نبی) نہیں ہدایت دے سکتے جسے چاہو لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔

سعید ابن مسیب کی یہ روایت تدلیس شدہ ہے:

1۔ یہ روایت سعید نے اپنے والد مسیب ابن حزن سے روایت کی ہے۔

مسیب اپنے باپ حزن کے ساتھ “فتح مکہ” کے بعد مسلمان ہوئے۔ جب حزن مسلمان ہوئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے ان سے اپنا نام بدلنے کو کہا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ اور اس وقت مسیب بہت کم سن تھے۔ سعید بن المسیب یہ بذات خود حضرت عمر کے وفات کے 2 سال بعد پیدا ہوئے تھے، یعنی 24 یا 25 ہجری میں۔

اس طرح یہ ناممکن ہے کہ انہوں نے یا انکے والد نے حضرت ابو طالب کو بستر مرگ پر دیکھا ہو کیونکہ یہ اسکے دس گیارہ سال بعد اسلام لا رہے ہیں۔ اس روایت میں تدلیس ہے کیونکہ اصل عینی گواہ کا کچھ علم نہیں ہے۔

شبلی نعمانی اپنی کتاب سیرۃ النبی میں ابن مسیب کی اس روایت کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:

مگر محدثانہ نقطہ نظر سے بخاری کی اس روایت کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ اس پر یقین کیا جائے کیونکہ اسکا آخری راوی المسیب فتح مکہ کے بعد اسلام لایا تھا۔ چنانچہ وہ ابو طالب کی وفات کے وقت موجود ہی نہ تھا۔ اسی وجہ سے علامہ عینی نے صحیح بخاری کی شرح میں اس روایت کو “مرسل” لکھا ہے۔

2۔ اور یہ روایت حضرت ابو ہریرہ سے بھی مروی ہے، مگر یہ بھی گڑھی ہوئی ہےـ

ابو ہریرہ ایمان لائے ہیں مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات سے فقط ڈھائی یا تین سال پہلے۔۔۔۔۔ جبکہ جناب ابو طالب کا انتقال ہوا تھا مکی زندگی میں۔ چنانچہ ابو ہریرہ بھی دس گیارہ سال بعد مسلمان ہو کر مدینے آتے ہیں۔ چنانچہ یہ روایت بھی تدلیس شدہ ہے یا پھر حضرت ابو ہریرہ قیاس کی بنیاد پر بذاتِ خود اس آیت کو ابو طالب کی وفات سے جوڑ رہے ہیں۔

سورۃ براۃ (توبہ) کی یہ آیت وفات ابو طالب کے دس گیارہ سال بعد مدینہ میں نازل ہوئی

جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اور جھوٹ بولنے کے لیے عقل کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

جس شخص نے بھی یہ جھوٹی روایت گھڑی ہے، اسکے جھوٹ کا پردہ اللہ تعالی نے یوں فاش کیا ہے کہ اس روایت میں دعوی کیا گیا ہے کہ سورۃ براۃ کی آیت (9:113) ابو طالب کی وفات کے وقت نازل ہوئی۔

یہ ناممکنات میں سے ہے۔

سورۃ برأۃ بالاتفاق جناب ابو طالب کی وفات کے کئی سالوں بعد مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ اور اسکی گواہی ہر قرآنی تفسیر میں موجود ہے۔ مثال کے طور پر صحیح بخاری کی ہی دوسری روایت ہے:۔

البراء کہتے ہیں: آخری سورۃ جو نازل ہوا، وہ سورۃ براۃ تھی۔

حوالہ: صحیح بخاری، کتاب التفسیر

جتنی قرآنی تفاسیر ہیں، انہیں اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو یہی نظر آئے گا کہ سورۃ براۃ جناب ابو طالب کی وفات کے دس گیارہ سال بعد مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔

چنانچہ سعید بن المسیب کی تدلیس شدہ روایت اس لحاظ سے بھی احمقانہ حد تک مضحکہ خیز ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم وفاتِ جناب ابو طالب کے دس گیارہ سال بعد تک مسلسل انکی مغفرت کی دعا کرتے رہے، اور صرف دس گیارہ سال کے بعد اللہ کو (معاذ اللہ) اسکی ممانعت کرنا یاد آیا۔

لاحول ولا قوۃالا باللہ ………

سعید ابن مسیب کی متعارض روایت کے مقابلے میں دوسرے اہلسنت صحیح روایات کی گواہی

نہ صرف یہ کہ سعید ابن مسیب کی اس روایت میں وقتِ نزول کے حوالے سے تضاد ہے، بلکہ دیگر اہلسنت صحیح روایات بھی اسکے خلاف گواہی دے رہی ہیں۔

پہلی روایت: علی ابن ابی طالب کی گواہی یہ آیت ابو طالب کے لیے نازل نہیں ہوئی

امام اہلسنت جلال الدین سیوطی تفسیر در منثور میں آیت 9:113 کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں:

امام طیالسی، ابن ابی شیبہ، احمد، ترمذی، نسائی، ابو یعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، اور امام حاکم اور انہوں نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے، ابن مردویہ، بیہقی نے شعب الایمان (باب فی مباعدۃ الکفار و المفسدین) میں اور ضیاء نے المختارہ میں حضرت علی ابن ابی طالب کا یہ قول بیان کیا ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ اپنے والدین کے لیے استغفار کر رہا تھا حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے۔ تو میں نے کہا: کیا تو اپنے والدین کے لیے استغفار کر رہا ہے حالانکہ وہ دونوں مشرک ہیں؟ تو اس نے جواب دیا: کیا حضرت ابراہیم نے اپنے باپ (چچا) کے لیے استغفار نہیں کی تھی؟ سو میں نے اسکا ذکر حضور نبی (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے کیا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔

امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں:

امام حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

اس روایت کے متعلق امام اہلسنت سید زینی دحلان لکھتے ہیں:۔

یہ حدیث صحیح ہے اور اسکے ثبوت میں ہمارے پاس ابن عباس کی ایک روایت موجود ہے جس کا مضمون یہ ہے:”لوگ اپنے باپ دادا کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تھے۔ حتی کہ سورہ توبہ کی زیر بحث آیت 113 نازل ہوئی۔ اس کے بعد ان لوگوں نے اپنے مشرک مردگان کے لیے استغفار کرنا ترک کر دیا لیکن اپنے زندہ مشرک عزیزوں کے لیے انکی زندگی تک استغفار کرنا نہ چھوڑا۔ تب اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:۔”اور ابراہیم کا اپنے چچا (آذر) کے لیے معافی کی دعا مانگنا ۔۔۔۔”
یعنی جب تک ابراہیم کے چچا (آذر) زندہ رہا، وہ اسکے لیے استغفار کرتے رہے، لیکن اس کے فوت ہو جانے کے بعد انہوں نے یہ عمل ترک کر دیا اور۔۔۔۔”
یہ ایک سچی گواہی ہے اور جب یہ سابق الذکر روایت کی تائید کر رہی ہے تو پھر اس کی صحت یقینی ہو جائے گی اور اس پر لازما عمل کرنا ہو گا۔ چنانچہ اس پہلی روایت کا واضح مطلب یہ ہے کہ آیت استغفار جس پر بحث ہو رہی ہے، وہ ابو طالب کے بارے میں نہیں بلکہ عام لوگوں کو اپنے مشرک اجداد کے لیے استغفار کی ممانعت کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔

اور امام جلال الدین سیوطی تفسیر در منثور میں آیت 9:113 کے تحت پہلے عطیہ عوفی سے ابن عباس کی ایک روایت لاتے ہیں، اور پھر خود اسکا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابن عباس کی یہ والی روایت صحیح ترین ہے جبکہ عطیہ عوفی والی ضعیف ہے۔ مکمل تحریر یوں ہے:

تفسیر در منثور، تفسیر آیت 9:113، علامہ جلال الدین سیوطی:

امام ابن جریر نے عطیہ العوفی کی سند سے ذکر کیا ہے ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے اپنے باپ (چچا) کی مغفرت کا ارادہ فرمایا تو اللہ نے اس سے منع کر دیا۔۔۔ میں (یعنی صاحب تفسیر) کہتا ہوں کہ یہ اثر ضعیف اور معلول ہے کیونکہ عطیہ ضعیف راوی ہے۔ اور یہ روایت علی بن ابی طلحہ عن ابی عباس والی سابقہ روایت کے خلاف ہے۔ وہ روایت اصح ہے اور علی بہت ثقہ راوی ہیں۔

سعید ابن المسیب کی تدلیس شدہ روایت کے مقابلے میں علی ابن ابی طالب وفاتِ ابو طالب کے وقت موجود تھے، ہر بات کے چشم دید گواہ تھے، اور آپ اسکے بھی چشم دید گواہ ہیں کہ یہ آیت کب اور کس شخص کے مشرک والدین کے لیے نازل ہوئی۔

اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ سعید ابن مسیب کی اس تدلیس شدہ روایت کو تسلیم کریں، یا پھر علی ابن ابی طالب جیسے جلیل القدر صحابی کی گواہی کو تسلیم کریں جو کہ ہر دو موقعوں(یعنی وفات ابو طالب اور اس آیت کے دوسرے موقع پر نازل ہونے) کے چشم دید گواہ ہیں اور مدینۃ العلم ہیں۔ ساتھ میں ابن عباس بھی ہیں کہ جن کو ہم اہلسنت “امام المفسرین” “حبر الامۃ” کا خطاب دیتے ہیں۔

سعید ابن مسیب کی روایت میں مزید تضادات

اوپر جو کچھ ہو چکا ہے، وہ کافی ہے کہ سعید ابن مسیب کی تدلیس شدہ روایت کے مقابلے میں علی ابن ابی طالب کی اصح روایت کو قبول کیا جائے۔ مگر ریکارڈ کے لیے بیان ہے کہ سعید ابن مسیب کی اس روایت میں مزید کئی تضادات اور سقم ہیں۔ مثلا:

1۔ علی ابن ابی طالب سے ہی ایک جھوٹی روایت منسوب کر دی گئی کہ آیت 9:113 وفاتِ ابو طالب کے کچھ دن بعد نازل ہوئی۔
یہ روایت الٹا جا کر مخالفین کے ہی گلے پڑ گئی کہ علی ابن ابی طالب کیسے ایک ہی آیت کے نزول کے دو وقت بیان کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ثابت ہوا کہ ان میں سے صرف ایک درست ہے جبکہ دوسرا علی ابن ابی طالب پر گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔
یہ بالکل ویسا ہی ہے کہ جس کا ذکر امام اہلسنت جلال الدین سیوطی نے اوپر کیا ہے کہ ابن عباس سے اوپر علی ابن طلحہ والی روایت اصح طریقے سے آئی، تو دشمنان اہل بیت نے انہی ابن عباس کے نام سے جھوٹی روایت گھڑ دی کہ یہ روایت وفات ابو طالب کے وقت نازل ہوئی۔

2۔ اس آیت 9:113 کے نزول کے متعلق فقط یہ دو زمانے ہی نہیں پائے جاتے، بلکہ اہلسنت کی حدیث کی کتب اور ابن کثیر اور تمام مفسرین نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے وفات کے سالہا سال بعد اُس وقت نازل ہوئی جب غزوہ تبوک سے واپسی پر رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اپنی والدہ آمنہ کی قبر پر گئے۔

امام حاکم، طبری، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے ابن مسعود کے طریقے سے جبکہ بریدہ، طبرانی، ابن مردویہ اور طبری نے عکرمہ کے طریقے سے ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:
“جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) غزوہ تبوک سے واپس آئے تو آپ نے عمرہ ادا کیا اور پھر اپنی والدہ کی قبر پر گئے۔ تب آپ نے اللہ تعالی سے ان کے لیے استغفار کرنے کی اجازت مانگی اور یہ تمنا بھی کی کہ وہ آپ کو قیامت کے دن انکی شفاعت کرنے کی اجازت بھی دے۔ لیکن خدا تعالی آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی یہ دونوں دعائیں قبول نہ فرمائیں اور اس وقت آیت استغفار (سورۃ توبہ آیت 113) نازل ہوئی۔”

یہ روایت بھی زمانہ نزول کے اعتبار سے سعید بن المسیب کی روایت کو جھٹلا رہی ہے۔ مگر مخالفین کو چونکہ جناب ابو طالب کو کافر ثابت کرنا ہے، اس لیے ان بقیہ روایات کو چھوڑ کر سعید ابن مسیب کی تدلیس(منسوب) شدہ روایت کو گلے سے لگائے بیٹھے ہیں۔

3۔ اس آیت کے نزول کے وقت کے متعلق فقط یہ تین مختلف روایات ہی نہیں، بلکہ اسی مضمون کی مزید 18 اہلسنت کی روایات موجود ہیں ـ
جن کو احادیث و روایات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہمیں نہ ان پر تنقید و تبصرہ کرنا ہے اور نہ ان کے متعلق کوئی فیصلہ دینا ہے، ہمارا مقصد تو فقط یہ واضح کرنا ہے کہ آیت کے نزول کے بارے میں کتنا شدید اختلاف اور کتنا عظیم تعارض ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ آیت کو اسکے مرکز سے ہٹانے کے لیے کتنے ہتھکندے روئے کار لائے گئے ہیں ـ اور عظمت اہلبیت خصوصا محسن اسلام جناب ابوطالب کو داغدار بنانے کی مکمل کوشش کی گئی ہےـ

4۔ امام اہلسنت علامہ زمخشری کو بھی ان تضادات کا احساس تھا اس لیے وہ تحریر فرماتے ہیں:

اس آیت کا رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی والدہ کے متعلق نزول کا قول صحیح ہے کیونکہ ابو طالب کی وفات ہجرت سے قبل واقع ہو گئی تھی جبکہ یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ (حوالہ: تفسیر کشاف، تفسیر آیت 9:113۔۔۔۔ اور تفسیر بیضاوی)

ہم تو اسکے قائل نہیں کہ یہ آیت رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی والدہ کے لیے نازل ہوئی ہو۔ مگر یہاں انکے قول کو نقل کر کے فقط ابن مسیب (کی جانب منسوب) روایت میں ان تضادات کو دکھانا مقصود ہے کہ امام اہلسنت علامہ زمخشری بھی اس بات کو ہضم نہیں کر پا رہے کہ مدینہ میں نازل ہونے والے اس آخری سورہ کی آیت کو پکڑ کر مکی زندگی میں فوت ہونے والے جنابِ ابو طالب پر زبردستی جڑ دیا جائے۔

5۔ امام اہلسنت علامہ قسطلانی کہتے ہیں کہ:

تحقیقی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اپنی والدہ کی قبر پر آئے اور استغفار کرنا چاہا تو یہ آیت نازل ہوئی ۔۔۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت حضرت ابو طالب کی وفات کے بعد نازل ہوئی ہے اور اصل یہ ہے کہ یہ آیت دو مرتبہ نازل نہیں ہوئی ہے۔ (حوالہ: ارشاد الساری از قسطلانی، جلد 7، صفحہ 270)

6۔امام اہلسنت اور مایہ ناز مفسر امام قرطبی اس آیت کے ذیل میں حسین ابن فضل کے قول کو درست قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

وقال الحسین بن الفضل: وهذا بعید؛ لأن السورة من آخر ما نزل من القرآن، ومات أبو طالب فی عنفوان الإسلام والنبیّ صلى الله علیه وسلم بمكة.

ترجمہ:

… اور حسین بن فضل کہتے ہیں: اس آیت کا جناب ابو طالب کے بارے میں نازل ہونا ایک بعید بات ہے۔ کیونکہ یہ سورہ توبہ میں ہے جو قرآن مجید میں نازل ہونیوالے آخری سوروں میں سے ہے، جبکہ ابو طالب اسلام کے ابتدائی دور میں ہی فوت ہو گئے تھے اور اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ابھی مکہ میں ہی تھے۔

کیا آیت 9:113 رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی والدہ کے لیے نازل ہوئی (معاذ اللہ)

بہتر ہے کہ ان مخالفین کے ایک اور تضاد کو واضح کر دیا جائے تاکہ لوگ گمراہی سے بچ سکیں۔

ان مخالفین کا دعوی ہے کہ مکہ میں ابو طالب کی وفات کے وقت یہ آیت نازل ہوئی:

(القرآن 9:113)نبی (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اور ایمان والوں کی شان کے لائق نہیں کہ مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہوں اس کے بعد کہ ان کے لئے واضح ہو چکا کہ وہ اہلِ جہنم ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) پھر کیوں اس آیت کے نزول کے سالہا سال بعد تبوک کے وقت اپنی مشرکہ والدہ (معاذ اللہ) کے لیے استغفار کی اجازت مانگ رہے ہیں؟ کیا یہ بات رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی شان کے لائق ہے؟

ان مخالفین نے تو وہ توہینِ رسالت مچا رکھی ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کو ایک عام مومن کی شان سے بھی کم کر دیا ہے۔ اللہ صاف صاف فرما چکا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اور مومن کی یہ شان ہی نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں۔

مزید طرہ یہ کہ استغفار کی ممانعت کے بعد بھی معاذ اللہ رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) باز نہیں آتے اور اپنی مشرکہ والدہ کے لیے شفاعت کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ لاحول ولا قوۃالا باللہ…..

سچ ہے کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے ہزار مزید جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔

اہلبیت کے دشمنوں کی جانب سے سے نہ صرف ابو طالب، بلکہ رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے والدین کو بھی کافر بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا، اور نتیجہ نکلا ایسی بے ہودہ روایات کی صورت میں جس میں کھل کر رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی توہین کر کے انہیں ایک عام مومن کی شان سے بھی نیچے گرا دیا گیا۔

اس موقع پر چند قرآنی آیات پیش خدمت ہیں جو سب کی سب تبوک کے واقعے سے پہلے کی ہیں:

(سورۃ المجادلہ، آیت 22) جو لوگ خدا اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے، اگرچہ کہ وہ انکے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ کیوں نہ ہوں۔ یہی وہ گروہ مومنین ہے جن کے دلوں میں خدا نے ایمان کو ثابت کر دیا ہے اور خاص اپنی روح سے انکی تائید کی ہے۔

ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، ابو نعیم، بیہقی، ابن کثیر، شوکانی اور آلوسی نے نقل کیا ہے:

“بعض تفاسیر کے مطابق سورہ مجادلہ کی یہ آیت ہجرت کے دوسرے سال میں جنگ بدر کے دن نازل ہوئی تھی، جبکہ سیرت حلبیہ کے مطابق مؤرخین اور مفسرین متفق ہیں کہ یہ آیت ہجرت کے تیسرے سال میں جنگ احد کے موقع پر نازل ہوئی ہے۔”

سورۃ النساء، آیت 144:

“اے ایمان والو! مومنوں کی بجائے کافروں کو اپنا سرپرست اور دوست نہ بناؤ۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا ایک صریح الزام قائم کر لو؟”

یہ آیت سورہ نساء میں آئی ہے جو مکی سورۃ ہے۔ امام قرطبی کے مطابق سورہ نساء ہجرت کے ابتدائی سالوں میں مدینہ میں نازل ہوئی۔

سورۃ المنافقون، آیت 6:

(القرآن، سورۃ المنافقون، آیت 6) تم ان کے لیے مغفرت کی دعا مانگو یا نہ مانگو، کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خدا انہیں ہرگز بخشنے والا نہیں۔”

یہ آیت سورہ منافقون میں ہے اور اسکے حکم میں منافق اور کافر دونوں شامل ہیں۔ اور جیسا کہ سیرت رسول اور غزواتِ پیغمبر کی کتابوں کے مؤلفین میں مشہور ہے کہ یہ سورہ ہجرت کے چھٹے سال میں غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر نازل ہوا۔ یہی بات ابن کثیر نے بھی نقل کی ہے اور امام قرطبی نے بھی۔

ایمان والوں کے لیے سبق پورا ہے کہ وہ دیکھ سکیں کہ دشمنان اہلبیت کی جانب سے گھڑی گئی ان بیہودہ روایتوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی وہ توہین کی ہے کہ جس پر ایمان والے ان بیہودہ باتوں پر فقط منہ پھیر کر لاحول پڑھتے ہوئے گذر جائیں۔

راقم
محمد شفیق حنفی
خادم مجلس شرعی ممبئی

أفضل البشر بعد الأنبياء

علماء اہل سنت و جماعت کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل ہے ، حدیث شریف میں ہے کہ سرکار دو عالم صلى الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
ما طلعت الشمس ولا غربت على أحد أفضل من أبي بكر إلا أن يكون نبياً،
یعنی سوائے نبی کے اور کوئی ایسا شخص نہیں کہ جس پر آفتاب طلوع اور غروب ہوا ہو اور وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے افضل ہو ،

مطلب یہ ہے کہ دنیا میں نبی کے بعد ان سے أفضل کوئی پیدا نہیں ہوا ، اور ایک دوسری حدیث میں آقا دو جہاں صلى الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ،
ابوبکرن الصديق خير الناس إلا أن يكون نبياً
یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ لوگوں میں سب سے بہتر ہیں علاوہ ازیں کہ وہ نبی نہیں ہیں ،

ایک بار حضرت علی علیہ السلام منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ تمام لوگوں میں أفضل و اعلیٰ ہیں، اگر کسی شخص نے اس کے خلاف کہا تو وہ مفتری اور کذاب ہے اس کو سزا دی جائے گی جو افترا پردازوں کے لئے شریعت نے مقرر کی ہے ،

اور حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خير هذه الامت بعد نبيها أبو بكر و عمر
یعنی اس امت میں رسول اللہ صلی الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد سب سے بہتر حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما ہیں ،

علامہ ذہبی رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کا یہ قول ان سے تواتر کے ساتھ مروی ہے ، ( تاریخ الخلفاء ص 31)

اور بخاری شریف میں ہے کہ حضرت محمد بن حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد گرامی حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد لوگوں میں کون سب سے زیادہ افضل ہے ؟ قال أبو بكر فرمایا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ سب سے افضل ہیں ، میں نے عرض کیا پھر ان کے بعد ؟ قال عمر فرمایا حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سب سے افضل ہیں ، حضرت محمد بن حنیفہ فرماتے ہیں کہ خشيت ان يقول عثمان
یعنی میں ڈرا کہ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نام لیں گے تو میں نے کہا اس کے بعد آپ سب سے افضل ہیں قال ما أنا إلا رجل من المسلمين
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ میں تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہوں ، یعنی کہ میں ایک معمولی انسان ہوں ،

اور بخاری شریف میں ہی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ظاہری حیات میں ہم لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے ، یعنی وہی سب سے افضل و بہتر قرار دئیے جاتے تھے ، پھر حضرت عمر کو ان کے بعد حضرت عثمان کو (رضی اللہ تعالٰی عنہما) پھر حضرت عثمان کے بعد ہم صحابہ کرام کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے تھے ،اور ان کے درمیان کسی کو فضیلت نہیں دیتے تھے ،

اور حضرت ابو منصور بغدادی رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ اس بات پر امت مسلمہ کا اجماع اور اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ان کے بعد حضرت عمر فاروق پھر حضرت عثمان ان کے بعد حضرت علی پھر عشرہ مبشرہ کے باقی حضرات سب سے افضل ہیں ،ان کے بعد باقی أصحاب بدر پھر باقی أصحاب احد ان کے بعد بیعت الرضوان کے صحابہ پھر دیگر أصحاب رسول الله صلى الله تعالیٰ علیہ والہ وسلم تمام لوگوں سے أفضل ہیں ،( رضوان الله تعالى علیہم اجمعین)